تحریر: محدثہ نقوی
"شہر کوفہ کی مانند بس پکارا ہم نے"
ہم نے بھی تو کشمیریوں کو بس کوفے والوں کی طرح خواب دکھائے ہیں،
ساتھ دینے کی باتیں کی ہیں، جھوٹے سچے وعدے کیے ہیں۔
اور کیا ہی کیا ہے ہم نے اپنے مظلوم کشمیریوں کے لیے؟
یاد رہے کوفہ والوں کے دھوکے کے بعد کربلا برپا ہوئ تھی۔
آج اگر ہم بھی کوفے والوں کا کردار ادا کرتے ہیں تو ایک اور کربلا ہو گی۔
یہ تو طے ہے کہ جیت تب بھی حق کی ہوئ تھی اور اب بھی حق کی ہی ہو گی۔
مگر یاد رکھنا،
ہمارا شمار کوفے کے تماشائیوں میں ہو گا۔
تاریخ لکھے گی کیسے وہ مظلوم وہاں مرتے رہے اور ہم تماشائی بنے رہے۔۔۔
No comments:
Post a Comment