اے اہلِ نظر ! کہتے ہو جس کو تم درويشِ زمانہ
قضاء وقت میں بھی جبیں سر بسجود رہتی ہے
خودی ! یہ جلوت، یہ خلوت، یہ جبلت
وجودِ اثر نہیں کہ حاضر دربارِالٰہی ہوتے ہیں
تو کہ نا آشنا حقیقتِ آدم ہے ابھی
اک سجدہ ہوا آدم کو، تو سمجھ بیٹھا یہ خدائی ہے
محرابِ جبیں بن جائیں، حلقے اتر آئیں
گر حرص خدمتِ خلق نہیں، تو کچھ نہیں حاصل
اسرارِ تونگری و شہنشاہی، بادشاہت و پذیرائی
خود آگاہی و صحر گاہی، خود آگاہی و صحر گاہی
No comments:
Post a Comment