بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تحریر :- بشری ذوالفقار
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وادی کشمیر پچھلے کئی برسوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن چند روز سے وادی کے اندر کیا صورتحال ہے اس سے میں بھی باخبر ہوں اور آپ بھی ۔ وادی کے لوگ صرف اور صرف ہماری مدد کے منتظر ہیں اور دنیا بھر سے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی گئی لیکن ایسے میں ایک افسوس ناک تحریک جو چلی وہ ہے ہمارے دلوں میں پاکستان کے خلاف شک و شبہ پاکستانی عوام کے خلاف نفرت ۔اور دشمن کا سب سے بڑا ہدف یہی تھا جس میں کسی حد تک وہ کامیاب بھی ہو گیا۔ جو لوگ پاکستانی عوام کے خلاف ہیں میں انہیں بتانا چاہتی ہو کہ پاکستانی ایک جنگجو قوم ہے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن جب بات عزت، تحفظ ، بہادری کی آ جائے تو یہ ہر اختلافات کو بھول کر ایک جان بن جاتے ہیں ۔ یہ پاکستانی قوم ہی ہے جو 2005 کے زلزلے میں ہمارا سہارا بنی ۔ہمیں مٹنے نہیں دیا اور پھر سے اس آزاد خطے میں زندگی واپس لوٹی۔ یہ پاکستانی فوج ہی ہے جو اس خطے کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے ۔تیرہ روذ سے پاکستان کے ہر شہر ہر دیہات میں کشمیر کی آزادی کے لیے لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں بچے بوڑھے جوان گرمی کی شدت بھول کر صرف اور صرف کشمیر بنے گا پاکستان کی صدائیں بلند کرتے ہیں ۔جو پاکستان کے خلاف ہیں میں ان لوگوں سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ ہم نے کیا کیا ہے اپنے مظلوم کشمیریوں کے لئے؟؟؟ صرف اپنی ذات تک سوچیں اور خود سے پوچھیں کہ ہم نے اب تک کیا کیا ہے ۔۔کل کو کیا ہو گا کیا نہیں یہ رب جانتا ہے لیکن ہم اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کو کیا جواب دیں گے ہم نے کیا کیا آپ کے لیے؟؟ کیا ہم ان کے سامنے سر اٹھا کر جی سکیں گے ۔ ہرگز نہیں۔ یہ وقت آپس میں الجھنے کا نہیں بلکہ ایک ہونے کا ہے ۔۔دوسرے نے کیا کیا مت سوچو بس اپنا فرض نبھاؤ ۔اٹھو ،جاگو یہ وقت ہے اپنے وطن سے محبت دکھانے کا ۔اگر سر اٹھا کے جینا چاہتے ہو.. تاریخ گواہ ہے جس نے وطن سے محبت نبھائی وہ امر ہو گیا اور جس نے وطن سے غداری کی اس کی نسلیں مٹ گئیں۔
No comments:
Post a Comment