تحریر:- سیدہ فائقہ حسین گیلانی۔
میں قوم کا وہ سرمایہ ہوں جس کا تعلیمی نظام ٹھیک سات مہینوں سے معطل ہے۔ تعلیمی سال 19-2018 کا اختتامیہ بہت قریب تھاجب ظالم وجابر دشمن جو اقتدار کا پجاری ہے۔ اس نے ہمارے ارادوں کو پست کرنے کی ناکام کوشش کی۔ دشمن کی سازش عین اس وقت شروع ہوئی جب میری محنت رنگ لانے والی تھی۔ میں بہت بہادر اور دلیر سپاہی ہوں۔ میں اکیلے بھی دشمن کو ہرا سکتا ہوں۔ مگر میری ماں کی ممتا جیت گئ اور مجبوراً مجھے ان کی انگلی پکڑ کر جانا پڑا۔ اس بے سرو سامانی کی حالت میں میری قلم دوات کتاب اور بستہ اور وہ موم بتی جوتمام تر روشنیوں کو بجھا کر میں صرف اس لیے جلاتا تھا تاکہ دشمن مجھ تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔ سب کو انتظار میں چھوڑ کر میں ماں کی انگلی تھامے چل دیا۔۔(مجھے آرمی آفیسر بننا ہے۔میں دشمن کو ہرا کر دم لوں گا۔ ) دو دن تو نئے گھر کی تلاش میں گزر گئے۔ اس حالات کی گردش میں میری تمام تر فکریں میری تعلیم پر مرکوز تھی جو تاحال سات ماہ گزر جانے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکیں۔۔وہ وقت جو میں نے کھیلنے کی عمر میں بے گھر ہو کر ایک ذمہ دار کی حیثیت سے گزارا۔ اس کی تلخیوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہر ایک دن صدیوں پہ بھاری محسوس ہوتا تھا۔ مجھے گھر اور کتابوں کی یاد ستائے جا رہی تھی۔ ہمارے لیے ایک امتحانی مرکز متعین کیا گیا۔۔ جہاں تمام طلبا لمبی مسافت کے بعد امتحان میں شامل ہوئے۔ مختصر کرتے ہوئے اس قدر کشیدہ حالات میں مئی کے مہینے میں کلاسز کا اجراء کیا گیا۔ ابھی پندرہ دن میں کچھ ہی روشنی سے فیض یاب ہوئے تھے کہ سب کوایک ڈنڈے سے ہانکتے ہوئے تعلیمی انتظامیہ نے دباؤ ڈالتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔ پندرہ دن کے اسباق کو بار بار دہراتے وہ دن بھی آن پہنچا جس کا شدت سے انتظار تھا۔ کل میں سکول جانے کے لئے پرجوش تھا کہ حالات کی کشیدگی کے باعث مزید دس چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا۔۔۔۔ میری دو عید ملن پارٹیز، جشن آزادی اور سالانہ تقریب تقسیم انعامات بھی ابھی باقی ہیں۔ میری کتابیں بلکل نئی ہیں۔۔ کیامیں کتابیں بیچ کر اسلحہ خرید لوں؟مجھے اپاہج کیا جا رہا ہے۔۔ ہر فرد ملت کو چاہیئے کہ قوم کے بہتر مستقبل کے لیے بغیر تاخیر کئے اپنے فرائض بخوبی انجام دے تاکہ میں بھی ایک شاندار مستقبل اس وطن کے نام کر سکوں۔
No comments:
Post a Comment