تحریر:- ثمینہ الطاف
ظلم ہوتا رہا خون بہتا رہا۔۔انتہا ہو گئی انسان خاموش رہا۔۔۔تو اب وقت ہے اس خاموشی کو توڑنے کا۔۔۔اب وقت ہے ظلم کو روکنے کا اگر اب بھی ہم خاموش رہے۔۔۔تو کشمیر فلسطین بن جائے گا جہاں کی فضاء بھی قید ہے۔۔۔جہاں دن میں بھی دکھائی نہیں دیتا۔۔ظلم ہے جہاں بس ظلم ہے۔۔۔کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ہم ظلم کے خلاف بول بھی نہیں سکتے۔۔۔۔اگر نہیں تو بولو آج ان ماووں کے لئے جو اپنے جوان بچوں کی لاشیں گود میں رکھ کے بیٹھی ہیں۔۔۔ان بہنوں کے لئے بولو جن کی عزت روندھ دی گئی ہے۔۔۔ظالم ہو تم سب جو بے بس اپنوں کی آواز نہیں سن رہے۔۔۔عید آئی ہے کہ سج گئے ہیں بازار گلیاں گھر محلے۔۔۔نکلا یے ہر کوئی خریدنے کو خوشیاں۔ ۔۔۔مگر ہے کوئی اس پار ایسا بھی اپنا جو مانگے کفن دے کر اپنی خوشیاں۔۔۔😭
No comments:
Post a Comment