تحریر:- فاخرہ خان
یہ قوم 74 فیصد شرح خواندگی پر مبارکباد کی مستحق ہے، مگر تہذیب کی شدید ترین قلت کے باعث اظہارِ افسوس کے لائق بھی ہے۔۔۔
کیا یہ شہر ہمارا نہیں، بس جو کچھ مرلے، یا کنال پر مشتمل جگہ کاغذی اعتبار سے ہماری ملکیت ہے بس ہمارے فرائض میں وہی جگہ ہے،صرف اتنی ہی جگہ کی دیکھ بال کرنے کی ذمہ داری ہے۔۔۔
اگر ایسا ہے تو ہم اپنے گھروں سے باہر کیوں نکلتے ہیں۔ اسی گھر میں ہی کہیں قید ہو کر رہ لیں جو ہمیں عزیز ہے، آذادی سے سڑک پر کس حق سے گھوم رہے ہیں، اپنی گاڑیاں بھی اسی سڑک سے گزارتے ہیں جس کو ہم اپنا سمجھتے ہی نہیں۔ اپنا کاروبار اسی سڑک کے احاطے میں سجا رکھا ہے، جس کی حفاظت شاہد ہمارے ذمے نہیں ہے۔
سکول، کالج، دفاتر ، ہسپتال یا کہیں بھی جانا ہو تو اپنے مبارک قدم ہمیں اسی ذمین پر رکھ کر جانے پڑتے ہیں جس کو کبھی ہم نے اپنا سمجھا ہی نہیں۔
یہ سڑک، یہ ذمین، ہمارا ہر طرح کا بوجھ اٹھا رہی ہے، اور ہم اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اس کے احسانات کا بدلہ اس طرح سے دے رہے ہیں کہ اپنے خریدے ہوئے گھروں کو صاف رکھنے کی غرض سے سارا کوڑ کبار سڑک کی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں۔ راستے میں چلتے چلتے کچھ کھا لیں تو ، سڑک کا حصہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، کھانے والا حصہ خود کھا لیتے ہیں ، باقی ریپزز وغیرہ سڑک کو کھلا دیتے ہیں، کیوں کہ ہم تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ شیئر کرنا سیکھ رکھا ہے اس لیے ہم سڑک کو استعمال کرنے کے عوض سڑک پر کچھ نہ پھنک کر جانے کو معاشرتی آداب کے خلاف سمجھتے ہیں کیوں کہ ہم ٹھرے تعلییم یافتہ لوگ۔۔۔
بلدیہ والے اگر کہیں کوڑا دان نصب کر دیں تو اس کو توڑنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، ابھی دو دن پہلے کی تو بات ہے، پٹرول پمپ چہلہ کے بالمقابل سڑک پر ہر وقت کچڑا جمع رہنے کی وجہ سے بلدیہ کی جانب سے ایک کوڑا دان رکھا گیا۔ مگر اگلے ہی روز اس کو ٹوٹی ہوئی حالت میں دیکھا گیا۔ اس عظیم کارنامے پر ایوارڈ تو بنتا ہے۔۔۔
ہم اسی طرح سے ان احسانات کا بدلہ جکاتے رہیں گے، کوئی دیکھے نہ دیکھے ہم اپنا فرض نبھاتے رہیں گے۔ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جوس پئیں گے مگر جوس کا ڈبہ سڑک کو عنایت کریں گے، چپس کھائیں گے اور ریپر سڑک کے ساتھ شیئر کریں گے کیوں کہ ہم 74 فیصد شرح خواندگی رکھنے والے تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔
بس کوئی ہماری تہذیب کا جنازہ پڑھ کر آخری رسومات ادا کر دے، یہ بڑی مہربانی ہو گی۔
No comments:
Post a Comment