قدرت کے رنگ بھی کیسے پیارے ہیں
یہ موسم کے انداز بھی نرالے ہیں
کبھی دھوپ چھاؤں کا کھیل لگے
کبھی چھم چھم ہو، مینہ برسے
کبھی ہوا کی لہریں چھو کہ گزرے
کبھی بادل کا شور سناٹا توڑے
کبھی پرندوں کی صدا سے گٹار بجے
کبھی آسماں پہ حسیں رنگ نکھرے
کبھی نم مٹی کی مہک ہر سو بکھرے
کبھی چاند کی روشنی سے زمیں چمکے
کبھی تاروں کے جھرمٹ سے آسماں دھمکے
یہ قدرت کے رنگ بھی کیسے پیارے ہیں
از قلم:- فاخرہ خان
No comments:
Post a Comment