تحریر :- حسام گیلانی
کسی انسان یا معاشرے کو بنانے میں استاد کا کردار بہت اہم ہے ۔
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ھے اور پھر استاد جو اس کو تعلیم اور تربیت دیتا ہے۔
استاد کے متعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے۔۔ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا اس کا حق ہے وہ مجھے رکھ لیں یا بیچ دیں۔
استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ھے۔ اگر آپ پاکستان کے علاوہ باقی ممالک میں دیکھیں تو استاد کا مقام سب سے اونچا ہے کیونکہ جج، وزیر اعظم، ڈاکٹر، انجینئر سب استاد اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے یہ احترام باہر کے ملکوں کا قانون بن چکا ہے۔
مگر افسوس کے ساتھ پاکستان میں نہ کوئی ایسا قانون ہے اور نہ ہی اس بارے میں حکومتی سطح پر کوئی اقدام کیا گیا ہے۔
اسلیے آ ج ہمارا نوجوان استاد کا احترام بھول گیا ہے استاد کی ڈانٹ ڈپٹ کو اپنی توہین سمجھتا ہے اور استاد کو اس کا جواب دیتا ہے ۔
شاگرد چاہے جتنی بھی اونچی جگہ پر ہو مگر وہ استاد کی محنت ہے۔
استاد کا احترام ہم پر اسی طرح لازم ہے جیسے والدین کا احترام لازم ہے اور استاد کی سختی آ پ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے وہ دشمنی نہیں ھو تی۔
شکریہ۔
کسی انسان یا معاشرے کو بنانے میں استاد کا کردار بہت اہم ہے ۔
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ھے اور پھر استاد جو اس کو تعلیم اور تربیت دیتا ہے۔
استاد کے متعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے۔۔ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا اس کا حق ہے وہ مجھے رکھ لیں یا بیچ دیں۔
استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ھے۔ اگر آپ پاکستان کے علاوہ باقی ممالک میں دیکھیں تو استاد کا مقام سب سے اونچا ہے کیونکہ جج، وزیر اعظم، ڈاکٹر، انجینئر سب استاد اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے یہ احترام باہر کے ملکوں کا قانون بن چکا ہے۔
مگر افسوس کے ساتھ پاکستان میں نہ کوئی ایسا قانون ہے اور نہ ہی اس بارے میں حکومتی سطح پر کوئی اقدام کیا گیا ہے۔
اسلیے آ ج ہمارا نوجوان استاد کا احترام بھول گیا ہے استاد کی ڈانٹ ڈپٹ کو اپنی توہین سمجھتا ہے اور استاد کو اس کا جواب دیتا ہے ۔
شاگرد چاہے جتنی بھی اونچی جگہ پر ہو مگر وہ استاد کی محنت ہے۔
استاد کا احترام ہم پر اسی طرح لازم ہے جیسے والدین کا احترام لازم ہے اور استاد کی سختی آ پ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے وہ دشمنی نہیں ھو تی۔
شکریہ۔
No comments:
Post a Comment