جو ٹوٹ جائے وہ اعتبار کیسا؟
جو چھوٹ جائے وہ ساتھ کیسا؟
جو روٹھ جائے وہ دوست کیسا؟
جو مان جائے وہ دشمن کیسا؟
جو وفا نہ ہو وہ وعدہ ہی کیسا؟
جو آنسو میں بہہ وہ غم کیسا؟
جو لب پہ آ جائے وہ گلہ کیسا؟
جو بدل جائے وہ دستور ہی کیسا؟
جو بے رواں ہو جائے وہ دریا کیسا؟
جو سکوت توڑے وہ سمندر کیسا؟
جو چھٹ جائے وہ بادل کیسا؟
جو گر جائے وہ آسماں کیسا؟
جو چھپ جائے وہ چاند کیسا؟
جو دہل جائے وہ سورج کیسا؟
جو مٹ جائے وہ زوال کیسا؟
جو ڈھل جائے وہ عروج کیسا؟
جو اخلاقی اقدار سے گر جائے
وہ انساں کیسا؟
ہاں ؟
وہ انساں ہی کیسا؟
از قلم:- فاخرہ خان
No comments:
Post a Comment