کہتے ہیں کہ اس دینے والے کا در کبھی بند نھیں ھوتا ۔یہ تو ہم انسان ھی ھوتے ہیں جو مانگنا چھوڑ دیتے ہیں۔انسان چاہے دنیا کی ہر چیز ہی کیوں نہ حاصل کر لے لیکن اس کو سکون صرف ایک جگہ ہی ملے گا۔
پتا ہے ہم انسانوں کا سب سے بڑا مسلہ کیا ہے؟
کہ ہم انسانوں میں اپنے سکون کو تلاش کرتے ہیں۔اس دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے اپنے دل کو بہلاتے ہیں۔لیکن ہم کبھی یہ نھیں سوچتے کہ کوئ ایسا ھے جو ہم سے بےانتہا محبت کرتا ہے۔ہم چاہے جتنے مرضی گناہ کر لیں وہ صرف ایک توبہ پے معافی دیتا ہے۔جب وہ ایک توبہ،،صرف ایک ندامت کے آنسو پے سب معاف کرنے والی ذات ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں ٹوٹنے دے۔۔میرا تو یہ ماننا ہے کہ اللہ کبھی اپنے بندے سے ناراض ہی نہیں ہوتا بس وہ آزماناچاہتا ہے ک میرا بندا کب لوٹ کے میرے پاس آۓگا۔اگر وہ ناراض بھی ہو تو اسے منا لینا چاہیے ضد کر کے ،التجا کر کے۔۔۔۔
میں نے پڑھا تھا کہ انسان سے سنگدل کوئ چیز نہیں ۔لیکن انسان چاہے جتنا بھی انا پرست ہو جب بات اس کی محبت کی آتی ہے تو وہ جھک ہی جاتا ہے۔۔اس کا دل بار بار دستک دینے سے موم کا ہو ہی جاتا ہے۔سخت پتھروں کے سینوں سے کبھی نہ کبھی نرم پانیوں کے چشمے پھوٹ ہی پڑتے ہیں ۔۔تو
یہ کیسے ممکن کہ وہ رب کریم اپنے بندے سے ناراض رہ سکے۔۔وہ جو ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والاہےوہ بار بار دستک دینے پر کیسے ہمیں نظر انداز کر سکتا ہے۔۔۔لیکن ضرورت صرف اس رستک کی ھے ۔۔صرف ایک دستک۔۔
تاکہ اس کو پتا چلے کہ اس کے محبوب بندے کی حاضری تو ہوئ ھے۔جب وہ دستک نہیں ہوتی تو بندہ توڑ دیا جاتا ہے۔۔ہم دنیا کی چار دن کی جھوٹی محبت میں یے برداشت نھیں کر سکتے تو وہ رب یے کیسے دیکھے کہ اس کا وہ بندہ جس سے وہ بےپناہ محبت کرتا ہے وہ کسی اور کا ہو۔۔اس لیے ہمیں آزماءش میں ڈال دیا جاتا ہے۔تاکہ ہم صرف اس کے قریب ہو جائیں۔
لیکن انسان کی اتنی اوقات نھیں کہ وہ اس کی محبت کے بدلے میں اتنی محبت کرے۔یہ کیا انسان تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے قابل بھی نھیں۔لیکن کیا ہم اس قابل بھی نھیں کہ اتنی محبت کے حضور ایک سجدہ کر لیں؟
۔نماز میں دنیا کا سب سے خوبصورت احساس ہوتا جب ہم اس محبت کے سامنے حاضری دیتے۔۔۔لیکن اس حاضری کی توفیق بھی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔۔
میرے ایک استاد کہا کرتے تھے کے بیٹا ہر کوئ اس رب کے آگے نہیں جا سکتا۔کوئ کوئ ہی اتنا خوش نصیب ہوتا کہ اس سے ضد کر سکتا،اس رب سے مانگ سکتا،اس سے باتیں کر سکتا،ہے،ہر کسی کو یہ توفیق نی ھوتی۔
میں اکثر سوچتی ہوں کہ۔ کیا ہم اس قابل بھی نہیں کہ وہ ہمیں اپنے سامنے آنے کی توفیق دے؟ ۔کیا اتنے برے ہیں کہ وہ یہ ہی نی چاہتا کہ ہم اس کے سامنے بھی جائیں۔۔ایک سجدے کی توفیق نی۔۔آخر کیوں ؟
اس کی محبت میں ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے ؟صرف اتنا سا بھی نھیں تو ھم کیسے اپنے ایمان کی گواہی دے سکتے ہیں؟ اس بے حد محبت کے بدلے اس کا اتنا حق نہیں کہ یم ایک محبت سے سجدہ کریں۔۔؟
ذرا نہیں پورا سوچۓ۔۔
✒️مومنہ نقوی
No comments:
Post a Comment