ہمارا وہ بچہ جو سکول میں صفر کارکردگی دے رہا ہوتا ہے اسے دین سیکھنے بھیج دیا جاتا ہے یا پھر مدرسے کو غریب کا بچہ آباد کرتا ہے۔ پہلے والے بچے کے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو گھرانے دیندار مشہور ہو جاتا ہے دوسرا اس بچے کی تربیت سے اہل خانہ کی جان چھوٹ جاتی ہے۔ وہی بچہ جب مدرسے کی مدت پوری کر کے نکلتا ہے تو کسی عبادت گاہ کے منبر پر بٹھا دیا جاتا ہے اور پھر پوری امت کو دین سکھاتا ہے (کچھ بچے سدھر بھی جاتے ہیں، انکی بات نہیں ہو رہی)۔ معاشرے کے قابل ترین افراد جیسے اساتذہ وغیرہ ان کا خطبہ سنتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔
بس یہی خرابی ہے ہمارے معاشرے میں بہت کم لوگ اپنے قابل اور ذمہ دار بچے کو دین سکھاتےہیں، اور انھی عظیم لوگوں کے بچے ہوتے ہیں جو امت کو شعور دیتے ہیں اور اسے جوڑنے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment