تحریر:- فاخرہ خان
ذندگی کتنی مختصر ہے، اور موت برحق ہے، ہم چاہ کر بھی کسی کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہ سکتے، مگر یادیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔ کبھی یہی یادیں ہمت توڑ دیتی ہیں اور کبھی کبھی یہی یادیں حوصلہ بھی دیتی ہیں۔۔۔
کبھی تنہائی میں ، کبھی محفل میں، کبھی بے وجہ ہی، کبھی اکیلا محسوس ہونے پر، کسی نہ کسی طرح سے وہ لوگ یاد آتے ہیں جو اب ہم میں نہیں۔ مگر ان کے وجود کا احساس پھر بھی رہتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے وہ یہیں ہوں ، ہمارے پاس، بس ہم دیکھ نہ سکتے ہوں۔۔۔
کبھی تنہائی میں ، کبھی محفل میں، کبھی بے وجہ ہی، کبھی اکیلا محسوس ہونے پر، کسی نہ کسی طرح سے وہ لوگ یاد آتے ہیں جو اب ہم میں نہیں۔ مگر ان کے وجود کا احساس پھر بھی رہتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے وہ یہیں ہوں ، ہمارے پاس، بس ہم دیکھ نہ سکتے ہوں۔۔۔
کوئی کتنا ہی عزیز ہو، کوئی کتنا ہی قریب ہو، اس کے بچھڑنے پر بھی ہم جی لیتے ہیں، خوشیاں بھی مناتے ہیں، دکھ درد بھی اکیلے سہہ لیتے ہیں۔ مگر ایک کمی سی رہتی ہے، جو ہر پل محسوس ہوتی ہے کسی کے نہ ہونے سے۔۔۔
اللّہ نے انسان کو اسی فطرت پر بنایا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر زخم مول جاتا ہے، سب اپنی اپنی ذندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں، معمول کے مطابق کام کاج میں مصروف ہو جاتے ہیں، اور بظاہر ہر چیز نارمل لگ رہی ہوتی یے، مگر یہ وہی جانتا ہے جو جدائی کے اس درد سےگزرتا ہے، کہ کسی کے بغیر جینا کبھی کتنا دشوار لگتا ہے۔۔۔
جو گزر گئے، ان کی کمی تو ہمیشہ رہتی ہے، مگر جو عزیز موجود ہیں، ان کی قدر کریں ، اس سے پہلے کہ وہ بھی یاد بن جائیں، ان لوگوں کو اپنا وقت دیں جنہیں آپ کے وقت کی ضرورت ہے۔ کسی کی ذندگی میں ہی اس کی اہمیت کو جان لینا اور اپنے عمل سے اس کا اظہار بھی کرنا، بعد کے افسوس سے بہت بہتر ہے۔۔۔
خاص طور پر وہ لوگ جو صرف آپ سے جڑے ہیں، جن کی خوشیوں کا انحصار آپ پر ہے، جو آپ کی راہ تکتے ہیں، جو آپ کے منتظر رہتے ہیں، ان کے لیے اپنے قیمتی وقت میں سے تھوڑا سا وقت ضرور نکالیں۔۔۔ اس سے آپ کو بھی خوشی ملے گی اور آپ کے چاہنے والوں کو بھی۔۔۔
اللّہ پاک ان سب کی مغفرت فرمائیں جو گزر گئے، اور جو حیات ہیں ان سب کو ایمان اور صحت والی دراز عمر عطا فرمائے، آمین۔
No comments:
Post a Comment