Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Friday, 7 June 2019




میری تربیت مجھے اجازت نہیں دیتی کہ میں خواتین کے گھریلو مسائل پر آواز بلند کروں۔۔۔ کیونکہ بچپن سے  ہی ماں کو ساس، سسر کی خدمت کرتے دیکھا ہے، شوہر کی عزت کرتے دیکھا ہے، سسرال کے لیے جی جان مارتے دیکھا ہے۔۔
 بڑی بہنوں کو والدین کی طرف سے ہمیشہ کو یہ واعظ ملتے سنا ہے کہ ساس ماں کی جگہ ہے، باپ سسر کی جگہ ہے،  بیٹا انہی کو اپنا سمجھنا، جس طرح ہماری عزت کرتی ہو اس سے بڑھ کر ساس، سسر کی کرنا، شوہر کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھانا، کچھ برا لگے تو سہ لینا۔۔۔ غلطی نہ بھی ہو تو معافی مانگ لینا، اپنے رشتے کو نبھانے کی ہر ممکن کوشش کرنا۔۔۔۔
                 مگر میرا ضمیر مجھے چپ رہنے نہیں دیتا۔۔۔
                 میرا قلم مجھ سے ناراض ہے میری اس خامشگی پر۔۔۔ مجھے بغاوت پر مجبور کیے ہوئے ہے۔۔۔
                 
                   جب آئے روز خواتین پر سسرال کی جانب سے ہونے والے ظلم وستم کبھی سننے کو ملتے ہیں ، کبھی پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے، تو یقین مانیئے میرا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔۔۔ میرا دل کچھ ساعتوں کے لیے سانس لینا چھوڑ دیتا ہے۔۔۔ ایک ناقابلِ بیان سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے یہ سوچ کر کہ ایک عورت ہی ایک عورت کا سکھ برباد کرنے کی وجہ بن رہی ہے۔۔۔
              بلکہ یہ کہا جائے کہ ایک ماں، خاص طور پر ایک بیٹی کی ماں، کیسے کسی اور کی بیٹی کے لیے اتنی سنگدل ہو جاتی ہے، کیا اسے یہ خیال نہیں آتا ہے کہ اس کی اپنی بیٹی بھی تو ہے، آج وہ جیسا سلوک اپنی بہو کے ساتھ کرے گی، کل کو وہی اس کی بیٹی کو بھی بھگتنا پڑے گا، دنیا مکافات عمل ہے، یہاں بہت سی باتوں کا بدلہ اس دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ مگر یہ سب باتیں عقل سے تعلق رکھتی ہیں، جب عقل پر پردے پر جائیں تو انکھیں بھی کچھ دیکھنے کے قابل نہیں رہتی۔۔۔
          
               تھوڑا سا غور کریں، معلوم ہوگا جو لوگ اپنی بہو کو سکھی نہیں رکھتے، ان کی بیٹیاں بھی خوش نہیں ہوتی، مگر لوگ انتقام کی آگ میں کسی اور کا بدلہ کسی اور سے لے رہے ہوتے ہیں، اگر اس کو تھوڑا الگ انداز میں سوچا جائے تو ان والدین کے لیے ایک اچھا مشورہ ہے کہ اگر آپ اپنی اولاد کے لیے سکھ چاہتے ہیں، اپنی بیٹی کے لیے جس طرح کا سلوک سسرال والوں کی طرف سے چاہتے ہیں ، ویسا ہی رویہ اپنی بہو کے ساتھ رکھیں پھر دیکھیں آپ کی بیٹی کی ذندگی میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔۔۔
              ہم ہمیشہ خود کو مظلوم سمجھتے ہیں، اور دوسرے کو ظالم۔۔۔
              سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے،  بس سوچ میں صرف  اتنی سی تبدیلی سے دو خاندان سکھی رہ سکتے ہیں۔
               لڑکی اپنے سسرال کو دل سے قبول کرے، اور سسرال والے لڑکی کو دل سے قبول کر لیں تو بہت اچھی ذندگی گزر سکتی ہے۔۔۔
         بہت سے گھر تباہ ہونے کی وجہ سسرال ہوتا ہے، کتنی ہی لڑکیوں کے گھر توڑنے میں سسرال کا کردار نمایاں ہے۔۔۔ خدا را دلوں کو ملانے والے بنیں، دلوں کو توڑنے والے نہیں۔۔۔
          گھروں کو جوڑنے والے بنیں، گھر توڑنے والے نہیں۔۔۔
         انسانی صفات اپنائیں، شیطانی نہیں۔۔۔
                
           دوسروں کی ذندگی میں مداخلت کرنے سے پرہیز کریں۔۔۔ اتنا تو سوچ لیں ، آپ بھی اسی وقت سے گزر چکے ہیں، جو باتیں آپ کو ناگوار گزرتی تھی ان باتوں سے کسی دوسرے کی ذندگی تباہ نہ کریں، مختصر سی ذندگی ہے، خود بھی خوش رہیں، اور دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کیوں کہ اسی عورت نے کل کو آپ ہی  کے بیٹے کی ماں بھی بننا ہے، ماں خوشحال ہو گی تو اپنی اولاد کی بھی اچھی تربیت کر سکے گی، ورنہ یہ قیامت تک چلنے والی نسلوں کی تباہی ہے۔۔۔ 
        یہ بھی یاد رکھیئے، کل بروز محشر ہر عمل کا حساب بھی دینا ہے ۔۔۔
         

         
            
           
                 

No comments:

Post a Comment