آنکھ کے دشت میں اب لاکھ الائو دہکیں
روح کی برف پگھلتی ہی نہیں
اب وہ ادرش کبھی
وقت کی اوٹ سے جہانکیں بھی تو یوں جہانکتے ہیں
جس طرح ٹوٹتا تارا کوئی
! ایک لمحے کے لیے کوند کے چھپ جاتا ہے
کس قدر خواب تھے جو خواب رہے
اب جو سوچیں بھی تو خوف آتا ہے
#MG
No comments:
Post a Comment