Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Sunday, 16 June 2019

تحریر :- بشری ذوالفقار

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
بھوک ایک ایسی مجبوری جس پر انسان کا کوئی اختیار نہیں جسے کچھ کھائے بغیر مٹایا نہیں جا سکتا۔جسے مٹانے کے لیئے لوگ ہر غلط راستے کا انتخاب بھی کر لیتے۔ اپنی جان پر کھیل جاتے۔ مگر  افسوس صد افسوس کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو کچھ کھلا کر نہیں بلکہ یہ آسرا دے کر سلا دیتے ہیں کہ ابھی سو جاؤ صبح آپ کی پسند کا کھانا لائیں گے اور بچے خوشی خوشی اس   بھوک کو مٹا کر سو جاتے ہیں مگر افسوس کہ کہاں سے آئے وہ پسند کا کھانا ۔ اس بھوک کا ذمے دار ہے یہ معاشرہ، یہ نام نہاد حکمران، یہ جدید میڈیا، یہ قانون کے رکھوالے، کیا دیا اس معاشرے نے صرف بھوک، کیا دیا روٹی ، کپڑا ،اور مکان کا دعویٰ کرنے والے  حکمرانوں نے نعروں کی آڑ میں لارے  ، کیا دیا اس میڈیا نے ،خبر اور ریٹنگ کی آڑ میں کسی کی مفلسی کا تماشا، کیا دیا ان قانون کے رکھوالوں نے، جہاں غریب مرد جائے تو نظر اس کی جیب پر اور غریب عورت جائے انصاف کی آڑ میں تو نظر اس کی عصمت پر۔  عورت اپنے بچوں کی بھوک مٹانے نکلے تو بات اس کے کردار پر۔ کسی رئیس کے گھر کام کرے تو لقب ملتا کام کرنے والی ماسی۔ چند روپوں کی خاطر بیگم صاحبہ کی جوتیاں کھائے اور صاحب جی کے جوتے صاف کرے اور پاؤں دبائے۔ پھر بھی اخراجات پورے نہ ہوں تو گھر کا چولہا جلانے کے لیئے عزت کو جلا دے۔ اس معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ غریب سڑک پر سوئے اور امیروں کے کتے بھی عالی شان کمروں میں، امیر کا کتا صوفے پر بیٹھے اور مالک کا منہ چاٹے اور وہ عورت جسے کام کرنے والی کا لقب دیا جاتا ہے سر جھکا کر قدموں میں بیٹھے۔ امیر ہوٹل میں جائے ضرورت سے زائد کھانا کچرے کی نظر ہونے میں تو بڑائی سمجھے مگر وہی بچا ہوا کھانا پیک کروا کر کسی غریب کو دینے میں اپنی توہین۔ جہاں ہم اپنے ہمسائے کے بارے میں اس بات کی کھوج رکھنے میں خوشی محسوس کرتے کہ وہ کس ذات کس فرقے کا ہے مگر اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کس قدر سفید پوش ہے۔ جب خدا کی ناراضگی ہوتی تو وہ انسان کو اس کی قیمتی چیزوں سے محروم کر دیتا ہے۔ وہ امت جس کی مثال فاطمہ بنت محمد جس کی عصمت کی مثال رہتی دنیا تک رہے گی آج اس امت کی بیٹی کی عصمت سرے بازار لٹ رہی۔ 
اختتام میں یہی کہوں گی 
"یہی درس دیتا روز کا سورج 
مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے"

No comments:

Post a Comment