قارئین اکرام!
آج میں آپ کی توجہ ایک بڑے ہی حساس معاملے کی جانب ولوانا چاہتی ہوں۔
"ہمارے معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرع"
فرمانِ رسول ہے کہ:-
أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ.
ترجمہ:- حلال کاموں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل طلاق ہے۔
اگر آپ کی انگلی پر زخم آ جائے، تو کیا آپ انگلی کٹوا دیں گے؟ نہیں، کبھی نہیں۔۔۔ آپ انگلی بچانے کے لیے کئ ہربے آزمائیں گے، حد ممکن کوشش کریں گے کہ انگلی نہ کٹوائی جائے۔ ہاں جب حالات ایسے ہو جائیں کہ ہر صورت انگلی کاٹنی پڑے، بصورتِ دیگر پورے ہاتھ کے ظائع ہونے کا خدشہ ہو۔۔۔ تب انگلی کاٹنے کو ترجیح دی جائے گی۔۔۔
یہی معاملہ رشتوں کے ساتھ بھی ہے، ہر مسئلے کا حل تعلق توڑنا نہیں ہوتا۔۔۔ کسی ایک معاملے میں ناچاقی کی وجہ سے عمر بھر کا تعلق توڑ دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔۔۔ رشتوں کو بچانے کے لیے بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔۔۔ حد ممکن رشتوں کو بچانے کی کوشش کریں۔۔۔ جہاں رشتہ ناسور ہو جائے وہاں طلاق کا فیصلہ ہو تو قابلِ قبول ہے۔۔۔
اس معاملے میں، لڑکی اور لڑکے دونوں کے والدین کو بہت سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔۔۔ والدین کی جانب سے بے جا حماہت کبھی بھی اچھی ثابت نہیں ہوتی، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں، بچوں کو رشتوں کی نذاکت سمجھائیں، ہر رشتے کے حقوق وفرائض سکھائیں، رشتہ نبھانے کے طور طریقے سکھائیں۔۔۔
بد قسمتی سے ہمارا تعلق اس معاشرے سے ہے، جہاں طلاق یافتہ عورت کو کوئی مقام نہیں ملتا۔ معاشرہ ایسی عورت کو قبول نہیں کرتا۔ وجہ جو بھی ہو قصور وار عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دو قریقین کی جدائی سے صرف دو ہی لوگوں کی ذندگی متاثر نہیں ہوتی، بلکہ ان کے ساتھ دیگر کئی رشتے بھی بڑی طرح سے متاثر ہوتے ہیں۔۔۔ بچے ہوں تو بچوں کی ذندگی کی تو گویا بربادی ہی شروع ہو جاتی ہے۔۔۔اور۔ تو اور لڑکی کی بہنوں کے رشتے اس خیال سے نہیں ہو پاتے کہ ، ایک بہن گھر نہ بسا سکی دوسری کیا کرے گی۔ ماں، باپ کی تربیت پر بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ لڑکے کے بھائی کو بھی لوگ رشتہ دینا پسند نہیں کرتے کہ بھائی کی دیکھا دیکھی دوسرے بھائی نے بھی ایسا ہی کرنا ہے۔۔۔ گویا دو لوگوں کے مابین تعلق ٹوٹنے سے دو خاندان کے سب ہی افراد کو اس غلطی کا ازالہ کرنا پڑتا ہے۔۔۔
طلاق کی وجوہات کا ذکر ابھی نہیں کروں گی، مگر بہت سی وجوہات کا ایک مشترکہ حل ضرور ہے، جس حد تک آپ باتوں کو برداشت کر سکتے ہیں اس حد تک اپنی برداشت کو ضرور آزمائیں۔۔۔ بہت سے مسائل آپ کی قوتِ برداشت سے حل ہو جائیں گے۔۔۔

No comments:
Post a Comment