گھر کا دسترخوان ہو یا کسی شادی کی تقریب، کسی فائیو سٹار ہوٹل میں ہوں یا کسی ڈھابے میں۔۔۔ رزق کی قدر کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔
حالیہ دور میں اپنے آگے سے کھانا چھوڑنا ایک سٹائل بن چکا ہے، اب لوگ دانستہ پلیٹ میں کچھ کھانا بچا دیتے ہیں۔۔۔ کسی محفل میں بیٹھ کر اپنی پلیٹ کا مکمل کھانا کھا لیا جائے تو لوگوں کے عجیب سے تاتر دیکھنے جو ملتے ہیں۔۔۔
جس بھی شے کی ناقدری کی جائے وہ چھن جاتی ہے، بس اتنی سی گزارش ہے کہ جہاں کہیں کچھ بھی کھائیں، اتنا ہی ڈالیں جتنا کھا لیں۔۔۔ ہوٹل میں ہوں تو بچ جانے ولی چیزیں پیک کروا لیں، خود نہیں رکھ سکتے، باہر کسی کو دے جائیں، مگر رزق کو کچڑے کے ڈھیر میں پھینکنے کا سبب نہ بنیں۔۔۔
ایک اور بڑی ہی عجیب سی روایت بنتی جا رہی ہے، سالگرہ کے کیک کو کھانے میں کم اور چہرے پر پر لگانے کے لیے ذیادہ استعمال کیا جانے لگا ہے، یہ کیسی انٹرٹینمنٹ ہے؟؟
ہم کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر کیوں کسی کی تقلید شروع کر دیتے ہیں؟؟؟ کیا ہم خود شعور نہیں رکھتے، یا ملک کا قرضہ اتارنے کے لیے، ہم اپنی عقلیں بھی گروی رکھ چکے ہیں؟؟؟
کسی کی بھی پیروی کرنے سے پہلے اس پر غوروفکر فرور کر لیں۔۔ ہر مشہور ہو جانے والی بات درست ہونے کی ضمانت نہیں رکھتی۔۔۔
ہمارے پاس، قرآن ہے، حدیث ہے، ذندگی گزارنے کے لیے ہر طور طریقہ ہمیں ہمارا دین سکھاتا ہے۔۔۔
اگر ہمیں مہذب بننا ہے تو نبی کی سنت پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔۔۔ قرآن و سنت ہی ہمارا قانون ہے۔۔۔ اور یہی مقصد حیات بھی۔۔۔

No comments:
Post a Comment