_____
🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵
15 شوال المکرم 1440 ھِجْرِی
19 جون 2019 عِیسَوی
5 ہاڑھ 2076 بکرمی
بروز بدھ Wednesday
🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵
تیرا دشمن ( نفس ) تیرے اندر رہتا ہے
🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵
خواجہ ابراہیم خواص رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں :
میں نے ایک دن سنا کہ
روم کا ایک راہب ، ساٹھ برس سے ، رہبانیت کے طریقہ پر ، قائم ہے ۔ مجھ کو تعجب ہوا کہ رہبانیت کی شرط تو چالیس سال سے زیادہ نہیں ہے ، وہ کس مقصد کو لے کر اتنا عرصہ ( گرجا ) میں ٹھہرا ہوا ہے ۔
میں نے اس سے ملنے کا ارادہ کیا ، جب اس کے پاس پہنچا تو اس نے کھڑکی کھولی اور کہا :
اے ابراہیم رحہ !
تم جس کام کیلئے آئے ہو ، میں جانتا ہوں ۔ میں یہاں رہبانی کیلئے نہیں بیٹھا ہوں ، بلکہ میرے پاس شوریدہ خواہشات ( بری خواہشات ) رکھنے والا ایک کتا ہے ، اس کو یہاں بند کرکے اس کی نگہبانی کر رہا ہوں ، تاکہ اس کی شرارت ، مخلوق تک نہ پہنچے ، ورنہ میں وہ نہیں ، جیسا تم نے مجھے سمجھا ہے ۔
( یہ نفس کافر ، سخت نافرمان ہے ، اس کا مار ڈالنا ، کوئی آسان کام نہیں ہے )
خواجہ ابراہیم رحہ کہتے ہیں :
اس کی یہ باتیں سن کر میں نے کہا :
خداوند ! تو ایسا قادر مطلق ہے کہ عین گمراہی میں بندے کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے اور یہ درجہ عنایت فرماتا ہے ۔
اس نے مجھ سے کہا :
اے ابراہیم ! تو کب تک آدمیوں کو ڈھونڈتا رہے گا ۔ جا .... اپنے آپ کو تلاش کر اور جب پاجائے تو خود اپنا نگہبان بن جا ۔ یہی ہوائے نفس ( خواہش ِ نفس ) روزانہ الوہیت ( خدائی ) کے 360 لباس پہن کر سامنے آتی ہے اور بندوں کو گمراہی کی طرف بلاتی ہے ۔
اَفَرَئَیتَ مَنِ اتَّخَذ َاِلٰھَہُ ھَوَاہُ
( سورہ جاثیہ: آیت 23 )
ترجمہ : کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا ، جو اپنی خواہشات کو اپنا معبود ( خدا ) بنا لیتے ہیں ؟
یہی راز ہے کہ عزیزوں کے دل اس میں خون ہوکر رہ گئے ہیں ۔ ہزاروں دل اس غم سے کشتہ ( ٹکڑے ٹکڑے ) ہوگئے مگر یہ کافر نفس ایک ساعت بھی نہ مرا ۔ ترک ِ خواہش بندے کو امیر بنا دیتی ہے اور خواہش کی پیروی امیر کو اسیر بنا دیتی ہے ۔
*جس طرح زلیخا نے خواہش کی پیروی کی ، وہ امیر تھی لیکن اسیر ہوگئی اور حضرت یوسف علیہ السلام نے خواہش کو ترک کیا ، اسیر تھے امیر ہوگئے .
🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵🔵🏵
___

No comments:
Post a Comment