کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ نا چاہتے ہوئے بھی پروان چڑھنے لگتی ہیں۔ اور پھر وہ ہمارے دہنوں میں اتنی پختگی سے بس جاتی ہیں کہ ہم چاہ کر بھی مٹا نہیں پاتے۔ شاید ہم انہیں مٹانا ہی نہیں چاہتے۔ اس لیے نہیں کے ہم نفرت کے پودے کو درخت بنانا چاہتے ہیں بلکہ اس لیے کہ ہم وہ نقصان دوبارہ نہیں اٹھانا چاہتے ۔
No comments:
Post a Comment