بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس معاشرے کی تنگ نظری کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خوف خدا سے اپنی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں کو ایمان داری اور خلوص نیت سے نبھائے تو اسے مغرور اور چالاک سمجھا جاتا ہے۔ جب ہم دوسروں کے مطلب کا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو ہمارے ساتھ چلنے والے سب کچھ جاننے کے باوجود بھی یہی کہتے ہیں عہدہ ملتے ہی اس کی تو ادا ہی بدل گئی یہ تو بہت مغرور یو گیا یا گئی۔ مگر خدا جانتا ہے ہم کیا کر رہے ہیں اور کس نیت سے کر رہے ہیں۔
"اور بےشک خدا ہمارے دلوں کے ہمارے دلوں کے حال سے باخبر ہے"
اس لیے لوگوں کی تلخ باتوں اور تلخ رویوں کی پرواہ کیے بغیر ایمان داری اور خلوص نیت سے اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی ذمہ داریوں کو نبھاتے جائیں اس جہاں میں نہ سہی اگلے جہاں میں اس کا اجر ضرور ملے گا
"اور بیشک خدا کسی کے اعمال ضائع نہیں کرتا"
No comments:
Post a Comment