تحریر:داؤد عارف
اللّه تعالیٰ کی ان گنت رحمتوں کے ساتھ رمضان کا یہ مہینہ ہم پر سایہ فگن ہوا ہے۔جس کی خوشی ہر ایک مسلمان کو ہے چاہے وہ دین سے دور ہے یا پرہیزگار چاہے وہ سوکھی روٹی سے افطار کرتا ہے یا انواع واقسام کے پھلوں سے ۔ یہ وہ مہینہ ہے جب خوابیدہ امت جاگتی ہے اور مسلمانیت پھر سے جاگ اٹھتی ہے۔
روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو کسی ایک مقصد یا ایک پیغام تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئ مقاصد اور پیغامات ہیں۔
اناانسان کے اندر چھپی جہالت سے جنم لیتی ہے جو وصفِ فرعونیت ہے یہ ایک ایسی بیماری یے جس میں انسان اپنی ہی زنجیر کی بیڑیوں میں جکڑا ہوتا ہے۔ جب انسان خود کو ایک مخصوص وقت کے لئیے کھانے،پینے پر قادر نہیں پاتا تو اسے اپنی بےبسی اور بے چارگی کا احساس ہوتا ہے۔
ایک مخصوص مدت کے لئیے بھوکا،پیاسا رہنے سےان لوگوں کا احساس ہوتا ہے جنھیں رمضان کے علاوہ بھی روزہ ہوتا ہے،جنھیں افطاری کے بعد بھی روزہ ہوتا ہے۔ یوں رمضان یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی نعت خواں پر پیسے چھڑکنے،جہاد کے نام پر چندہ دینے اور مسجد میں چراغاں کرنے سے بہتر ہے کسی غریب کی مدد کی جاےُ۔
ایک ہی وقت میں پوری امت مسلمہ کا ایک ہی فعل میں مشغول رہناجغرافیائ،طبقاتی اور رنگ ونسل کی مصنوعی تفریق کو ختم کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ ماہِ رمضان میں الله کی خصوصی رحمتوں کا نزول ، ہر نیک عمل کے ثواب کو بڑھا دینا،ایک ایسی رات کا عطا کرنا جو ہزار مہینوں سے افضل ہے اور جہنم سے خلاصی الله تعالٰی کی خاص عنایت اور الله کے غفورالرحیم ہونے کی دلیل ہے۔
روزہ انا کو ختم کرنے، غریبوں،مسکینوں کی مدد کرنے ،معاشرے میں موجود لسانی، جغرافیائی ، طبقاتی اور رنگ و نسل کی تفریق کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ صبرواستقلال کا بھی پیغام دیتا ہے۔
No comments:
Post a Comment