Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Wednesday, 15 May 2019


پیغام رمضان
تحریر:شکور خواجہ

تقوی اور تزکیہ نفس کے ایک انتہائی جامع اور موثرمنصوبہ کے ساتھ رمضان المبارک ہم پر سایہ فگن ہوا ہے۔اس ماہ مبارک کے روزوں کے التزام سے خدا کی صحیح معنوں میں بندگی کی تربیت ملتی ہے۔خدا کی بندگی اس کی نعمتوں کے احساس کے بغیر ممکن نہیں ۔ غذا اور پانی کی اہمیت سے سب واقف ہیں ‘لیکن ان کی غیر موجودگی میں بھوک اور پیاس کیسی ہوتی ہے اس کا صحیح معنوں میں احساس ہونہیں پاتا۔ بھوک اور پیاس کا احساس ‘ڈھیر سارے لکچرز سے نہیں بلکہ عملاً بھوکے اور پیاسے رہ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔روزوں کے ذریعہ ‘ خدا کی نعمتوں کا صحیح شعور حاصل ہوتا ہے اورمنعم حقیقی کی بندگی ہی کو زندگی سمجھنا ممکن ہوجاتا ہے۔

اس دنیامیں سب سے صحیح اور سچی بات یہی ہے کہ جس نے دنیا میں بھیجا ہے صرف اسی کی پرستش کی جائے۔ جو مال و متاع میسر آئے وہ مزید خالق کے قریب لے جائے۔یہ نہ ہو کہ مال پاکر آدمی خدا ہی سے دور ہوجائے۔ یعنی اس دنیا میں بس یہی دوحقیقتیں ہیں ۔ ایک حقیقی خالق کو پہچان کر اس کی بندگی بجالانا اور دوسرا دنیوی نعمتیں پاکر خدا سے قریب ترہوجانا۔ جب ان دونوں یا کسی ایک پہلو سے غفلت برتی جاتی ہے تو انسانی زندگی سے سکون چھن جاتا ہے اور نتیجتاًمعاشرہ امن و سلامتی خالی محسوس ہونے لگتا ہے۔ آج ہندوستان کی غربت دور کرنے کیلئے دولت کی نہیں ‘انسان کے فکر و عمل میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ کیا بات ہے کہ گوداموں میں اناج سڑجاتا ہے لیکن غریبوں تک نہیں پہنچ پاتا؟ آخر کیو ں ہمارے ملک میں عرب پتی اور کروڑ پتی کے رہتے ہوئے سطح غربت سے نیچے(below poverty line) زندگی گذرانے والے کروڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں ؟ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہندوستان جیسی فلاحی ریاست (welfare state) کے حکمران خود اپنی ہی رعایا کی خیر خواہی کرتے کہ کوئی ایک فرد بھی رات خالی پیٹ نہ سوجائے اور نہ ہی کوئی لاوارث کی طرح سڑکوں اور چوراہوں پر اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجائے؟

No comments:

Post a Comment