معاشرتی المیہ!!!
جہاں احساس نہ ہو وہاں انسانیت رلتی ہے۔۔۔پھر جہالت کی حدیں کچھ اس طرح پار ہوتی ہیں کہ۔۔۔۔
پھر زبان بھی چلتی ہے۔۔۔
پھر ہاتھ بھی اٹھتے ہیں۔۔۔
پھر دل بھی دکھائے جاتے ہیں۔۔۔
پھر ذہنوں پر بھی وار ہوتے ہیں۔۔۔
کبھی تیزاب سے جلایا جاتا ہے۔۔۔
کبھی گلہ دبا کر مارا جاتا ہے۔۔۔
کبھی عزتیں لوٹی جاتی ہیں۔۔۔
کبھی غیرت کے نام پر قتل ہوتا ہے۔۔۔
کبھی کچڑے سے نومولود ملتے ہیں۔۔۔
کبھی بچی کی جنم پر لاشییں اٹھتی ہیں۔۔۔
کبھی آزادی پر پیٹا جاتا ہے۔۔۔
کبھی قید کی سزا ملتی ہے۔۔۔
جہاں احساس نہ ہو وہاں انسانیت رلتی ہے!!!

No comments:
Post a Comment