خدا کی عبادت کے لئے فرشتے کم نہیں تھے، پھر بھی خدا نے اس جہان کو بنایا۔ اور اس میں رہنے کے کچھ قوائد و ضوابط ہمیں بتا دیئے گئے۔ انسان کی زندگی کو ایک رخ دینے کے لیئے دنوں، مہینوں کا عمل تخلیق میں آیا۔
ہر مہینے کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں، پر رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جس میں اللہ سبحان تعالی نے رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائ، ہم رمضان کو عبادت کے لحاظ سے دیکھنے لگ گئے ہیں، اس میں کوئ شک نہیں کہ رمضان میں ہر عبادت کا ثواب کئ گنا بڑھا دیا گیا ہے۔ مگر عبادت کا حکم تو پوری زندگی کے لئے ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ عبادت کے لیے فرشتے کافی تھے۔ اللہ تعالی نے یہ دنیا بنائ تا کہ انسان، انسان کے درد کو سمجھے، ایک دوسرے کا سہارا بنے، ایک دوسرے کے کام آئے۔
جیسے جیسے معاشرہ ترقی کرتا گیا ویسے ویسے انسان انسانیت سے دور ہوتا گیا، سب اپنی زندگیوں میں اتنا مصروف رہنے لگے کہ کسی دوسرے کا درد دکھائی دینا ختم ہو گیا۔ اب اس افراتفری کے دور میں ایک مہینہ ایسا طے پایا جس میں ہمیں عبادت کے ساتھ ساتھ ایسی چیزوں کا درس دیا گیا جس کے ذریعے ہم اپنی کھوئ ہوئ انسانیت دوبارہ حاصل کر سکیں۔
مگر افسوس ہم اس مقصد کو بھی جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے، روزہ نام ہے صبر کا، غم خواری کا، شکر کا۔
اور سب سے بڑی بات " رمضان کا پیغام ہے انسانیت کو عام کرنا".
پہلے پہل لوگ پورا پورا سال روزے رکھتے تھے، اس زمانے میں انسانیت بھی تھی پر جیسے جیسے انسان نے اپنی تخلیق کا مقصد فراموش کرنا شروع کر دیا ویسے ویسے انسانیت کو زوال آنے لگا، اب خدا تعالی نے ہمیں ایسا ایک مہینہ مخصوص دے دیا کہ سارے بھولے ہوئے سبق یاد کر لو ۔ پر ہم ہیں کہ اسے کچھ اور ہی سمجھ رہے ہیں۔
روزہ صبر کرنا سکھاتا ہے، ہم پورا دن صبر تو کرتے ہیں مگر شام ہوتے ہی افطار میں پورے دن کی کسر نکال لیتے ہیں۔
روزہ شکر کرنا سکھاتا ہے لیکن افطار میں جب تک طرح طرح کے لوازمات ہمیں نظر نہ آئیں ہم شکر کرنے کہ بجائے منہ بناتے ہیں۔
روزہ احساس کرنا سکھاتا ہے، پر ہم بس اپنے آپ میں ہی مگن ہیں۔ ہمارے پاس قسم قسم کے کھانے موجود ہیں پر وہ لوگ جن کے پاس پیٹ بھرنے کے لیے بھی کھانا نہیں، ان کا احساس ہم کب کرتے ہیں؟ ویسے تو یہ ہم سب کا فرض ہے کہ دوسروں کا خیال رکھیں مگر رمضان میں جہاں ہم پورا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں تب بھی ہمیں غریبوں کی بھوک پیاس کا احساس نہیں ہوتا۔
آخر ایسا کیا ہو کہ ہمیں دوسروں کا احساس ہو؟
خدا نے طرح طرح سے ہمیں موقعے دیے کہ ہم اپنے مقصد تخلیق کو سمجھ سکیں لیکن نا جانے ہمیں کون سے سانپ نے کاٹ کیا ہے کہ جس کا زہر ہماری روح تک میں پھیلتا جا رہا ہے اور ہم احساس انسانیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں ۔۔
Your words 👌👌👍👍
ReplyDelete