Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Wednesday, 1 May 2019

تحریر: بختاور مشتاق
اوہ ! ِخاموش! آج یوم مزدور ہے ۔۔پروگرام دیکھنے دے مجھے ۔۔۔ مطلب ؟ ارے یہ جو ہوتے ہیں نا کام کرنے والے ۔۔ یہ جو روڈوں پہ بیٹھے ہوتے ہیں کام کے انتظار میں، کوئی آئے یہ مزدور اٹھیں ان کو پاؤں پکڑیں ان کی منت سماجت کریں ان سے بھیک مانگیں گڑگڑا کر اپنی ضرورتیں بتائیں اور التجا کریں پھر کوئی ان پہ ترس کھا کر ساتھ لے جاتا ہے اور کام پہ لگا دیا جاتا ہے اور سب سے اہم کہ یہ ہاتھوں سے کام کرتے ہیں اور کانوں سے اپنی حالتوں پہ مذاق سنتے ہیں اور زبان تو سمجھو ان کے منہ میں پائی ہی نہیں جاتی ، مگر امی جو لوگ انہیں لے کے جاتے ہیں وہ تو ان کے بنا معذور ہوتے ہیں ، اب دیکھیں ہمارا گھر بنانے والے یہی مزدور ، ہمارے گھر کی سیوریج ٹھیک کرنے والا مزدور ہماری دکانوں پہ کام کرنے والا مزدور ہماری تو زندگی ہی ادھوری ہے ان کے بغیر پھر ان کی بے عزتی کیوں کی جاتی ہے ؟ امی یہ مثال تو بالکل ایسے ہے جیسے ہم پورا دن گھر کام کرتے ہیں صفائی ستھرائی کھانا پکانا دھونا اوڑھنا پچھونا غرض کہ چاردیواری کا ہر کام سب کچھ کرتے ہیں ہر پل مردوں کا خیال کہ کچھ غلط نہ ہو اس خیال سے دل دہل جاتا ہے مگر ہم بھی ٹھرے نہ مزدور کہ ادھر مرد حضرات گھر میں داخل ہوئے ادھر تفتیش مہمان بن بیٹھی اور نقص سلامی لینے حاضر ہو جاتی ہے پھر مزدور کی طرح عورت بھی دو چار گالیاں سنتی ہے لعن طعن لیتی ہے مگر پھر بھی کام میں مصروف رہتی ہے ، مزدور کیا عورت کا دوسرا نام ہے ؟ چپ کر جا ۔۔پتہ نہیں آج کل کی نسل کو ایسے خیالات کہاں سے آتے ہیں ۔۔جا رہی ہوں تیرے ابا کے لئے ناشتہ بنانے اٹھنے کا وقت ہو گیا ہے انکا

No comments:

Post a Comment