تحریر:- فاخرہ خان
انسان کی بے بسی کی انتہا تو دیکھیے۔۔۔کہ وہ اتنا بھی صاحب اختیار نہیں کہ رب کی مرضی کے بغیر اپنی پلک بھی جھپکا سکے۔۔۔ اتنا لاچار ہے کی دماغ میں آتی ہوئی سوچوں کو بھی جھٹک نہیں سکتا اور بے چینی کے اس عالم میں نیند آور گولیاں کھا کر سونے کی کوششش کرتا ہے۔۔۔اتنا عاجز ہے کہ خود پر آنے والی کسی تکلیف کو بھی ہٹا نہیں سکتا۔۔۔ اتنا کمزور کہ اپنے خوش حال لمحات کو بھی قید نہیں کر سکتا۔۔۔ اتنا نادان کہ اپنا اچھا، برا بھی سمجھ نہیں سکتا۔۔۔ اتنا معصوم کہ قسمت کے ہاتھوں بھی دھوکا کھاتا ہے۔۔۔ اتنا غافل کہ روز محشر کو ہونے والا حساب بھی یاد نہیں رکھتا۔۔۔۔
زندگی کی رنگینیوں میں مگن اے انسان۔۔۔
سوچئیے زرا۔۔۔
پھر اکڑ کیسی؟ پھر کس بات کا ناز؟ پھر غرور کیسا؟
پھر کیوں نا جکھا لیں خود کو۔۔۔ پھر کیوں نہ عاجزی کی راہ چنیں۔۔۔ پھر کیوں نہ اپنا آپ مٹا دیں۔۔۔
انسان کی بے بسی کی انتہا تو دیکھیے۔۔۔کہ وہ اتنا بھی صاحب اختیار نہیں کہ رب کی مرضی کے بغیر اپنی پلک بھی جھپکا سکے۔۔۔ اتنا لاچار ہے کی دماغ میں آتی ہوئی سوچوں کو بھی جھٹک نہیں سکتا اور بے چینی کے اس عالم میں نیند آور گولیاں کھا کر سونے کی کوششش کرتا ہے۔۔۔اتنا عاجز ہے کہ خود پر آنے والی کسی تکلیف کو بھی ہٹا نہیں سکتا۔۔۔ اتنا کمزور کہ اپنے خوش حال لمحات کو بھی قید نہیں کر سکتا۔۔۔ اتنا نادان کہ اپنا اچھا، برا بھی سمجھ نہیں سکتا۔۔۔ اتنا معصوم کہ قسمت کے ہاتھوں بھی دھوکا کھاتا ہے۔۔۔ اتنا غافل کہ روز محشر کو ہونے والا حساب بھی یاد نہیں رکھتا۔۔۔۔
زندگی کی رنگینیوں میں مگن اے انسان۔۔۔
سوچئیے زرا۔۔۔
پھر اکڑ کیسی؟ پھر کس بات کا ناز؟ پھر غرور کیسا؟
پھر کیوں نا جکھا لیں خود کو۔۔۔ پھر کیوں نہ عاجزی کی راہ چنیں۔۔۔ پھر کیوں نہ اپنا آپ مٹا دیں۔۔۔
No comments:
Post a Comment