Friday, 5 April 2019
تحریر : ماریہ گردیزی
ہمارے دیہاتوں میں بچوں کو ہاسٹل بھیجنے کا رواج ہے۔ والدین کا خیال ہے کہ بچے وہاں اچھی پڑھاٸی کرتے ہیں ، ذمہ دار اور اچھے شہری بنتے ہیں۔ والدین کی اکثریت ایسا کرنے سے پہلے ہاسٹلز کا اور اپنے بچوں کی صلاحیت کا جاٸزہ نہیں لیتی۔ چند ہی ہاسٹلز ہوتے ہیں جہاں بچوں کا خیال رکھا جاتا ہے اور انہیں آگے بڑھنے کا اور اپنی شخصیت نکھارنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ بہت سارے بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنا اچها برا سمجھنے تک مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ پھر ان بچوں کو تباہ کرنے کا ذمہ دار نہ ہاسٹل کو ٹھہرایا جاتا ہے نہ ہی والدین کو۔ اور پھر انہیں ٹھیک کرنے کی طرف بھی توجہ نہیں دی جاتی اور انہیں معاشرے کا ناسور بنا دیا جاتا ہے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment