Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Sunday, 28 April 2019

یوم مزدور

تحریر :محدثہ نقوی
بارش سے ٹپکتی ہوئ چھت کی طرف دیکھتا ہے
وہ جو قطرہ چھت سے نیچے ٹپکتا ہے، یوں لگتا ہے اس کی آنکھ سے نکلا آنسو ہے۔
کام پر جانے کو دیر ہو رہی ہے، روکھا سوکھا کھا کر بچے کی پیشانی چوم کر بیوی کو آج پھر نا جانے کس دل سے تسلی دیتا ہے۔
اللہ سب بہتر کرے گا !
بچہ بخار سے تڑپ رہا ہے، دوا کے پیسے نہیں ہیں۔
پیدل جانے کی وجہ سے وقت پر نا پہنچنے پر مالک کی جھڑکیاں، ایک درد سا دل میں اٹھتا ہے۔
مجبوری اور لاچاری زباں سے الفاظ نوچ کر چھین لے جاتی ہے۔
آنسو خلق میں پیتے ہوئے اوزار اٹھائے آگے بڑھتا ہے۔
شام ہوتے ہی بیمار بچے کا خیال آتا ہے اور مالک سے دن بھر کی مزدوری کی درخواست کرتا ہے،
ننگے پاؤں بھاگتا ہوا گھر پہنچتا ہے، وہی ٹپکتی چھت، وہی مایوس بیوی، وہی بلکتا بچہ۔
پیسے اتنے ہیں کہ پیٹ بھرتا یا بچے کی جان بچاتا، سوچا کل کی مزدوری سے بچے کو ہسپتال لے جاؤں گا۔
دال روٹی کھا کر سو جاتا ہے، صبح بچے کے رونے کی آواز نہیں آتی ،
لگتا ہے طبیعت کچھ سنبھل گئ ہے، پر یہ کیا ماں کے لاکھ کہنے پر بھی بچہ اب روتا نہیں !
بچہ باپ کی مجبوری دیکھ کر اپنا درد لیے خاموش ہو جاتا ہے۔۔۔
اب خلق میں پھنسے آنسو آنکھوں کا بند توڑ کر گالوں پر بہنے لگتے ہیں،
کاش کوئ مجھ غریب کا ذرا سا احساس کرتا میرا بچہ نا مرتا۔۔۔۔ !


No comments:

Post a Comment