تحریر : ماریہ گردیزی
یوم مزدور ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ زندگی میں بڑے کام کرنے کے لیے بلند حوصلے درکار ہوتے ہیں، کتنی بار اپنے حقوق لینے کے لیے بھی ہمیں سخت نقصان اٹھانا پڑتا ہے لیکن یہ نقصان ایک قوم کے لیے ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ کچھ لوگ اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے کئی قوموں کو زندہ کر دیتے ہیں اور خود بھی امر ہو جاتے ہیں۔ بالکل ایسا ہی شکاگو کے مزدوروں نے بھی کیا سینکڑوں گھر اجڑ گئے لیکن ان کی موت نے ہی مزدور طبقے کو زندگی بخشی۔ جہاں پہلے مزدور پندرہ پندرہ گھنٹے کام کرتے تھے وہیں اب مزدور اب آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ بہت سارے مزدوروں کو بہت سارے حقوق اور سہولیات میسر نہیں وہیں یہ حق تمام مزدوروں کو حاصل ہے کہ وہ آٹھ گھنٹے کام کریں۔ اب اگر مزدور اضافی کام کرتا ہے تو اسے اضافی مزدوری بھی دی جاتی ہے۔ اب یوم مزدور عالمی سطح پر منایا جاتا ہے اور قومی چھٹی کا دن کہلاتا ہے لیکن امریکہ جہاں کے مزدوروں کو مارا گیا آج بھی اسے قومی چھٹی کا درجہ نہیں دیتا۔
*مزدور اتحاد زندہ باد*
No comments:
Post a Comment