تحریر _فریال عظیم
مزدور کا پیغام
جاڑا سردی پُھونکے یا
سورج سوا نیزے پر ہو
پیٹ میں سوکھی روٹی ہو
یا تن پر کپڑا بوسیدہ ہو
ہر دم کام کروں گا میں
ہر دم کام کروں گا میں
بازوں ٹوٹ کر گر جاۂیں یا
کندھے بوجھ سے جھک جائیں
چوٹ لگے اور لگتی رہے
زخم جتنے بھی رستے رہیں
یوں ہی چلتا رہوں گا میں
یوں ہی چلتا رہوں گا میں
تھوڑی اُجرت دے کر مجھ کو
مالک طیش میں جھڑکے بھی
پھر ظلم جتنے بھی ڈھاۂے وہ
کام سے مطلب ہے مجھ کو
کام تو کرتا رہوں گا میں
کام تو کرتا رہوں گا میں
فخر ہے مجھ کو خود پر بہت
اور کام کوئی بھی چھوٹا نہیں
محنت کش دوست ہے رب کا
حقارت کہیں مزدوری میں نہیں
سو محنت کرتا رہوں گا میں
سو محنت کرتا رہوں گا میں
No comments:
Post a Comment