"یومِ مزدور"
پھٹے پُرانے کپڑے پہنے، ہاتھوں میں اوزار اٹھائے
عظم ہے اس کا کتنا بالا، کوئ بھلا کب جان سکا
کچے مکاں میں رہتا ہے، اور گھر سب کو یہ دیتا ہے
پیٹ بھرا کب ہوتا ہے ، جب بچہ اُس کا سوتا ہے
باپ کی خاطر دِکھالاتا ہے، خوب کِھلکلاتا ہے
ننھے ننھے ہاتھوں سے اوزار یہ دُھلاتا ہے
باپ کا ہاتھ بٹاتا ہے، ہِمت اس کی بڑھاتا ہے
بیوی بھی مُسکراتی ہے، حوصلے کو بڑھاتی ہے
رُوکھا سُوکھا کھا لیں گے، ہم بھی مُسکرا لیں گے
آپ ہمیں کمزور نا سمجھیں آپ کا ساتھ نِبھا لیں گے
No comments:
Post a Comment