افسوس ہم اس معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ایک شخص اگر برائیوں کی دلدل سے نکل کر اچھائی کی طرف آنے کی کوشش کرے تو اسے طنز کے تیروں سے مارتے ہیں اور اگر کوئی شخص جس نے مہینوں کوئی عبادت نہ کی ہو مگر ایک خاص رات خدا کے کرم اورتوفیق سے اس کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر اس سے اپنے سابقہ گناہوں کی معافی مانگنے کا ارادہ کر چکا ہو،توبہ کا عہد کر چکا ہو توپھر ہمارے اندر کا مولوی،ہمارے اندر کا فلسفہ دان جاگ جاتا ہے اور ہم ایسے کسی بھی شخص کی مدد کرنے کے بجائے آغاز سے ہی اس کا حوصلہ اتنا پست کر دیتے ہیں کہ وہ جو نیکی کی راہ کی طرف پہلا قدم بڑھا رہا تھا آغاز میں ہی سہم جاتا ہے بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور تب جا کے ہم جیسے نیک لوگوں کے دلوں کو سکون ملتا ہے
خدارا یہ دوغلا معیار،یہ طنز کے تیر برسانا چھوڑئیے اور اگر کوئی شخص نیکی کی طرف ایک قدم بھی بڑھا رہا ہے تو اس کا حوصلہ پست نہ کیجیے چاہے آپ کے پاس عبادتوں کا انبار ہو چاہے آپ نے تمام نماز روزے مقررہ وقتوں پہ ادا کیے ہوں ،چاہے آپ اپنے تمام فرائض بخوبی ادا کر رہے ہوں۔مگر خدارا اپنی عبادتوں کے گمھنڈ اور تکبر میں ان لوگوں کے حوصلے نہ پست کیجیے جو اچھائی کی طرف پہلا قدم بڑھا رہے ہوں چاہے وہ جب بھی جس موقع پر بھی خدا کی طرف بڑھ رہے ہوں ان کی دل شکنی نہ کریں ہو سکتا ہے ان کی نیت کا خلوص اور ان کی ندامت کے آنسو خدا کی بارگاہ میں ہم جیسے نیکوکاروں اور گمھنڈ کے ماروں پر سبقت لے جائیں.
No comments:
Post a Comment