تحریر:صفی ملک
والد صاحب کے گھر آتے ہی میں زور سے پکار اٹھا, ابو فیس کا نوٹس آگیا ہے.پچیس ہزار دو دن میں یکم مئی سے قبل جمع کرانی ہے. بات ختم ہونے سے پہلے وہ کمرے میں چل دیے تھے.
سوچا میری تو پروا ہی نہیں فیس کا سنتے ہی مزاج بدل گیا جیسے مجھے پڑھا کر احسان کر رہے ہوں. غصے میں میرے منہ سے ناجانے کیا کیا نکل رہا تھا.میں اپنے کمرے میں آ بیٹھا کہ عجب سوچ میرے ذہن سے ٹکرائی.
"بجائے یہ پوچھنے کہ ابو کام ملا تھا؟آپ کی دھاڑی لگی؟آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟آپ کو پانی دوں؟ میں نے تو ایک زہر آلود تیر ان پر چلا ریا."
اسی سوچ میں رات کا ایک بج چکا تھا.بلب بند کرنے اٹھا تو دیکھا, سر پہ ہاتھ رکھے ابو کسی گہری سوچ میں مبتلا تھے. شاید میں ان کی سوچ کی عکاسی کر سکتا تھا.
"میں مزدور بندہ آٹھ سو کمانے والا اچانک پچیس ہزار کہاں سے لاؤں گا.بیٹی کی شادی سر پر ہے.گھر کا کرایہ دینا ہے.کریانے والے کو کچھ رقم دوں گا تو سودا سلف ملے گا.اوپر سے بچوں کی فیس.گرمیوں کے دنوں میں کام کی بندش.بیوی کی دوایاں. اے خدا میں کیا کروں.حرام کما کے ان کا پیٹ تو بھر دوں مگر میں اپنے ہی ہاتھوں ان کو جہنم واصل نہیں کر سکتا".
مجھ پہ جیسے سکتا طاری تھا. ناجانے کتنے مزدوا باپ اپنی اولاد کے لیے دن بھر دھوپ میں جل کر رات کو سوچوں میں لہو جلاتے ہوں گے.اپنی ذات سے بے خبر اپنے گھر والوں کے لیے اپنا سکون برباد کرتے ہوں گے.اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے اپنی نیندیں حرام کرتے ہوں گے. مگر ہم اس مزدور باپ کو بدلے میں کیا دیتے ہیں.
ذرا سوچیے......!!!
ہر اک درد وہ چپ چاپ خود پہ سہتا تھا
تمام عمر وہ اپنوں سے کٹ کے رہتا تھا
wordless :(
ReplyDeleteبھائی جان آپنے کمال کر دیا بس کیا ۔۔۔۔۔
ReplyDelete#safi story no 1
Delete