تحریر:- فاخرہ خان
اپنے ظرف کو بڑھانا ہو تو کئی بار اپنی انا کا گلہ گھونٹنا پڑتا ہے۔۔۔
اپنے ظرف کو بڑھانا ہو تو کئی بار اپنی انا کا گلہ گھونٹنا پڑتا ہے۔۔۔
کتنی بار خود سے خود ہی لڑنا پڑتا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ خود کو بھولنا بھی پڑتا ہے۔۔۔
اس سفر میں بہت بار دل بھی حادثات کا شکار ہوتا ہے۔۔۔
کبھی خود اپنی ہی زبان سے اس کی حق گویائی چھیننی پڑتی ہے۔۔۔
کبھی اندھے پن کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔۔۔
اور کبھی قوت سماعت سے بھی ناانصافی کرنی پڑتی ہے۔۔۔
اس سفر کا ایک اور مشکل مرحلہ یہ بھی ہے کہ ہر وقت پر عزم رہنا ہوتا ہے۔۔۔
یہ سفر جتنا بھی کٹھن ہو مگر اس کا اختتام بہت حسین ہے۔۔۔
جب انسان اپنا ظرف بڑھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے پھر اس پر بہت سی ایسی حقیقتیں کھل جاتی ہیں جو اسے اس جہاں سے راغب ہونے نہیں دیتی۔۔۔پھر دنیا کے غم بے معنی ہو جاتے ہیں۔۔۔ پھر کچھ بھی برا نہیں لگتا۔۔۔ پھر سوچ بدل جاتی ہے۔۔۔ پھر سب مثبت لگتا ہے۔۔۔
No comments:
Post a Comment