تحریر :- فاخرہ خان
کہیں کوئی خاموشی کے کا مزار ہو اور ہر وقت اس میں مسکراہٹ کا دیپ جلتا رہے اور اپنائیت کی خوشبو سے فضا معطر رہے۔۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ سے موسیقی کا لطف بھی آتا رہے اور مور کا رقص بھی جاری رہے۔۔۔سورج کی کرنوں سے پانی میں بکھرتے رنگ ہوں اور ڈھلتی شام کے گہرے لمبے سائے۔۔۔
No comments:
Post a Comment