میں چاہوں تو اُن ہواؤں کا رُخ بدل دوں
جن میں یہ لوگ اُڑا کرتے ہیں
میری فطرت میں نہیں ہے غرور کرنا
ورنہ اِن کو میں بتاوں قصور یہ اپنا
یہ جانتے ہی نہیں ہیں خوبیاں میری
جان جائیں تو چلےجاں سے ہی جائیں گے
ارے کس کی انا سے یہ الجھ بیٹھے ہو !
انا تھی تو نہیں تم لوگ بنا بیٹھے ہو !
میں تو سادہ سی تھی شاعر بنا بیٹھے ہو
اب تو میری بھی انا کو تم لوگ جگا بیٹھے ہو
گلہ مت کرنا ! تم ہی سے سیکھا ہے غرور
خاک مجھ کو جو سمجھو گے تو اُڑ تو پاؤ گے
پر سنوغرور والو اُڑو گے تم فقت خاک بن کر
• Written by: Muhadsa Naqvi 📝
• March 18, 2019 ( 3: 46 am )🍁
No comments:
Post a Comment