تحریر :- فاخرہ خان
کچھ میں بھی پاگل سی، کچھ موسم بھی دیوانہ
کچھ میں بھی پاگل سی، کچھ موسم بھی دیوانہ
یہ کالی گھٹائیں، چلتی ہوائیں، گرجتا، برستا آسماں
ہم یوں ہی دل وار جاتے ہیں قدرت کے نظاروں پر
دل شکستہ کو منانا ہو گر دل ناداں کو سمجانا ہو
جی موسم تو بہانا ہے ، روٹھے دل کو بھی منانا ہے
اس پل کو ہم جیتے ہیں جس پل کی کوئی قیمت کہاں
دنیا سے بیگانی میں اور قدت کا سماں سماں
کتنا بھلا لگتا ہے ہر سو رنگوں کا بکھر جانا
یہ موسم کی رنگینیاں بھی کیسی شوخ وچلچل
یہ منفرد ادا اور جینے کاقرینہ سیکھ ان سے روحی
No comments:
Post a Comment