Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Monday, 4 February 2019

تحریر۔بشری ذولفقار 
   
   آج جانا زندگی کو 

سوال تھا زندگی کیا ہے۔۔میرے خیال کے مطابق۔۔۔
زندگی ایک احساس کا نام ہے ایک پہچان کا نام ہے ۔اپنے رب کی پہچان۔ اس مقصد کا نام جس کے لیے رب نے ہمیں اشرف المخلوقات کا رتبہ دیا۔مگر  افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس مقصد کو بھول گئے اور دنیا میں اس قدر مگن ہو گئے کہ اپنے آپ کی پہچان بھی بھول گئے رب کو پہچاننا تو بہت دور کی بات ہے۔خدا نے ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کا درجہ دیا مگر ہم نے خود کو اس درجے سے بھی زیادہ سمجھنا شروع کر دیا نعوذ باللہ خود خدا بننے لگ گیے اس خداتک کسی کے لباس سے اس کو کردار کا تصور شروع کر دیا ۔کبھی یہ زحمت نھیں کی کہ اس سے بات کی جائے بلکہ ظاہر دیکھ کر اس کی شخصیت اس کے کردار کا تصور پیش کر لیا۔ہم کون ہوتے ہیں یہ سب کہنے والے۔وہ رب جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے کیا وہ اتنا غافل ہے کہ اس کی جگہ ہم فیصلے سنائیں ۔نعوز بااللہ ۔اج ہم اپنا سکون دنیا میں ڈھونڈتے ہیں مگر یہ زحمت نھیں کرتے کہ ایک بار خود میں بھی جھانک کر دیکھ لیں ۔جب خدا نے انسان کو پیدا کیا تو فرشتوں سے پوچھا کہ اس کا سکون کہاں رکھا جائے ۔فرشتوں نے فرمایا پہاڑ کی چوٹی پر۔خدا نے فرمایا نہیں اس کے حوصلے بہت بلند ہیں ڈھونڈ لے گا۔فرشتوں نے فرمایا سمندر کی گہرائی میں۔خدا نے فرمایا نہیں اس کے حوصلے بہت بلند ہیں ڈھونڈ لے گا۔پھر رب العالمین نے فرمایا اس کا سکون اس کے اندر اس کی ذات میں رکھا جاے۔ہم خدا اور رسول کے عاشق ہو نے کا نعرہ تو بڑے جوش سے لگاتے ہیں مگر ہم عشق کا مطلب بھی نھیں جانتے۔عشق کا مطلب صرف دعوہ کرنا نھیں بلکہ اس عشق میں اپنی ذات کو فنا کر دینا ہے۔مگر ہم تو خدا اور رسول کا نام تو حلق سے نیچے اتار ہی نہیں سکے صرف زبان پر ہی رکھا ہے تو اس رب کو کب پہچانیں گے اس مقصد کو کب پورا کریں گے جس کے لیے رب العالمین نے ھمیں پیدا کیا ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کا درجہ دیا۔زندگی صرف اپنی زات کے لیے جینے کا نام نہیں اپنے لئے اپنا پیٹ پالنے کے لیے تو جانور بھی انسان سے بہتر جیتے ہیں۔ہمیں زندگی اس طرح جینا ہو گی کہ موت کے وقت ہمیں یہ غم نہ ہو کہ ابھی تو میں نے بہت سے کام کرنے تھے بہت کچھ حاصل کرنا تھا۔بلکہ موت کے بعد ہم اپنے رب کے سامنے اس مسکراہٹ کے ساتھ پیش ہوں یا رب میں نے اس مقصد کو بخوبی پورا کیا جس کے لیے تو نے مجھے دنیا میں بھیجا۔زرا سوچیں ہمارے مذہب نے ہمیں اس طرح زندگی بسر کرنے کا حکم دیا۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایسی تھی کہ جیسے ہم گزار رہے ہیں۔۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے دلوں میں حسد کینہ بغض کی تہہ جم چکی ہے جس دن ہم نے خود میں جھانکنا شروع کیا اس دن ہم پہچان جائیں گے زندگی کیا ہے۔اسلام میں زندگی کیا ہے۔عاشق خدا اور عاشق رسول کیا ہے۔خدا نے ہر نشانی کو انسان کے اندر چھپا کر رکھا ہے پھر نہ کسی نشانی کو اور نہ خدا کو پہچاننے کے لیے ہمیں دنیا کے پیچھے بھاگنا پڑے گا۔ہماری زندگی کا مقصد یہ دنیا اور اس کی ظاہری شان و شوکت نہ ہو بلکہ خدا اور رسول کی رضا ہو۔وہ مقصد ہو جس کا حکم دیا گیا ہے۔یہ ہے زندگی کا نظریہ اسلام کی روشنی میں۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment