ازقلم: محدثہ نقوی
اذیت کیا ہے؟؟
بھری دنیا ہو، سوچوں کا اثاثہ ہو، سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ہاتھ خالی ہوں، منہ میں زباں ہو پر الفاظ پر پابندی ہو، سب آپ کے آس پاس ہوں پر آپ کسی کے پاس نہ ہوں، بھری محفل میں آپ تنہا ہوں، احساسات کا ایک بے شمار خزانہ آپ کے پاس ہو اور اس کی قدر کرنے والا کوئ نہ ہو، محبتیں بانٹنے والوں کو نفرتوں کے تیر ملیں، احساس کرنے والوں کو منافقتوں کی آگ میں جلنا پڑے، اچھائیوں کے بدلے بدترین سزائیں ملیں ۔۔۔
دنیا کی سچائی آپ پر آشکار ہو جائے اور آپ کو سانسیں لیتے رہنا ہو، معلوم ہو کہ ہر قدم پہ ایسے لوگ ملیں گے جو آپ کی پیٹھ میں خنجر گھونپیں گے مگر پھر بھی قدم اٹھانا ہو، معلوم ہو کہ آپ کو ، آپ کے خیالات کو سمجھنے والا کوئ نہیں مگر پھر بھی ان کے بیچ رہنا ہو، ہر پل ہر دم بس مر مر کے جینا ہو،
الفاظ نہ ہو اور بیانِ اذیت کرنا ہو!
یہ بھی تو اک اذیت ہے،
No comments:
Post a Comment