تحریر :- فاخرہ خان
یہ خواہشیں بھی عجیب ہیں، انوکھی ہیں
بادل کو تھام کر، آسماں کو چھونا ہے
تارےبھی گننے ہیں، خواب بھی دیکھنا ہے
خوش بھی رہنا ہے، درد بھی سہنا ہے
دانا بھی ہونا ہے، گڑیا سے بھی کھیلنا ہے
بشر بھی رہنا ہے، فرشتہ بھی ہونا ہے
زیر بھی رہنا ہے، زبر بھی ہونا ہے
زندہ بھی رہنا ہے روحی امر بھی ہونا ہے
یہ خواہشیں بھی عجیب ہیں، انوکھی ہیں
No comments:
Post a Comment