تحریر:- بشری ذوالفقار
موضوع عدل و انصاف
دنیا ایک مکافات عمل ہے
انسان دنیا میں جو کچھ بھی کرتا ہے اس کا بدلہ سزا یا جزا کی صورت میں اسے اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔کوئی بھی شخص طاقت کے نشے میں چور ہو کر کسی کمزور کے ساتھ یہ سوچ کر ظلم وزیادتی نہ کر ے کہ وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتا مگر اس وقت وہ شخص یہ بات بھول جاتا ہے کہ ایک ایسی ذات بھی ہے جس کے پاس تمام طاقتوں کی طاقت ہے اور اسی نے مجھے بھی یہ طاقت دی ہے جس کا میں غلط استعمال کر رہا ہوں۔وہ ذات جو سب سے زیادہ عادل ہے وہ بدلہ لے گی اس کمزور کا۔چاہے وہ ظلم کسی انسان کے ساتھ ہو یا حیوان کے ساتھ۔۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جو کہ اکثر خدا سے ہم کلام ہوتے ایک مرتبہ انہوں نے خدا سے کہا ۔اے اللّٰہ میں تیرا عدل وانصاف دیکھنا چاہتا ہوں۔خدا نے فرمایا اے موسیٰ فلاں نہر کے پاس ایک درخت ہے اس درخت کے پتوں میں چھپ کر بیٹھ جاؤ ۔آج تم میرا انصاف دیکھ لو گے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ویسا ہی کیا اور درخت کے پتوں میں چھپ کر بیٹھ گئے۔اتنے میں ایک جوان نہر پر پانی پینے آیا اس کے ھاتھ میں اشرفیوں کی تھیلی تھی اس نے پانی پیا مگر جاتے ہوئے اشرفیاں اٹھانا بھول گیا۔۔اس کے بعد ایک چھوٹا بچہ پانی پینے آیا اس نے اشرفیاں دیکھی اور وہ اشرفیاں اٹھا کر چلا گیا۔اس کے بعد ایک بوڑھا شخص پانی پینے آیا۔اتنے میں اس جوان کو یاد آیا کہ وہ اشرفیاں اٹھانا بھول گیا ہے۔وہ واپس آیا اور اس بوڑھے سے کہا کہ تم نے میری اشرفیاں اٹھائی ہیں مجھے واپس کرو۔بوڑھے نے کہا میں نے نہیں اٹھائی۔مگر جوان نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے قتل کر دیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا یا رب یہ تو ظلم ہے اس جوان نے ایک بے گناہ کا قتل کر دیا اور اشرفیاں وہ بچہ لے گیا۔آپ کے خیال میں بھی یہ ظلم ہو گا۔۔مگر نھیں ۔خدا نے فرمایا نہیں ۔۔اے موسیٰ یہی تو میرا انصاف ہے ۔ان تینوں کو ان کے عمل کی سزا اور جزا مل گئی۔وہ جوان جس کے پاس اشرفیاں تھیں وہ چوری کر کے لایا تھا اور وہ بچہ جو اٹھا کر لے گیا اس کے باپ سے اس نے چرائی تھیں اسے اس کی اشرفیاں واپس مل گئیں۔وہ بوڑھا جو قتل ہوا جوانی میں اس نے اس جوان کے باپ کو قتل کیا تھا اور آ ج اسی کے بیٹے کے ھاتھ خود بھی قتل ہو گیا اور اس کے باپ کا بدلہ بھی پورا ہو گیا۔دیکھ لیا میرا انصاف
۔۔ایک سچا واقعہ
اخبار میں ایک وکیل نے ایک آ رٹیکل لکھا تھا میں اور میرا بہت اچھا دوست ہم دونوں وکیل تھے۔ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے اچانک باہر لڑائی شروع ہوگئی اس قدر کہ گولیاں چلائی گئیں اور ایک شخص قتل ہو گیا۔خوف کی وجہ سے ہم باہر نہ نکلے مگر جب شور ختم ہو گیا باہر اس لاش کے سوا کوئی نہ تھا میرا دوست اٹھا اور جا کر لاش اٹھانے لگا اتنے میں پولیس آ گئی اور اسے قاتل سمجھ کر لے گئی میں یہ بات جانتا تھا کہ قتل اس نے نہیں کیا ۔میں نے اس کا کیس لڑا ۔میں نے اپنی زندگی میں اتنی محنت نھیں کی تھی جتنی اس کے کیس میں کی۔۔ بے گناہ ہونے کو باوجود ہر ثبوت اس کے حق میں صحیح ثابت ہو رہا تھا اور کیس اس حد تک پہنچ گیا کہ اسے سزائے موت سنائی گئی۔۔پھانسی کے ایک دن پہلے میں اس سے ملنے گیا اور اس سے پوچھا کہ تم نے ایسا کون سا ظلم کیا تھا اپنی زندگی میں جس کی اتنی بڑی سزا ملی تمھیں۔۔اس نے بہت سوچا اور پھر بولا ۔جب میں جوان تھا تو ایک مرتبہ میں نے ایک کتیا کے ساتھ اس کا چھوٹا سا بچہ دیکھا میں نے اس بچے کو اتنا تنگ کیا کہ وہ مر گیا کتیا کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے اور میں اس بچے کو وہیں پھینک کر مزاق سمجھ کر چلا گیا۔تو اس وکیل نے بتایا جس دن سے میں نے تمہارے کیس پر کام شروع کیا اس دن سے ہر رات ایک کتیا میرے دروازے پر آ کر بیٹھ جاتی اور پوری رات بہت غمزدہ آوازیں نکالتی ۔شاید کہ وہ مجھ سے فریاد کر رہی تھی کہ میرے بچے کے قاتل کو مت بچاؤ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس طرح ہم نیکی کر کے خدا سے اجر کے طلبگار ہوتے ہیں اسی طرح ہمیں ظلم زیادتی کرتے ہوئے بھی خدا کا خوف ہونا چاہیے ۔پھر چاہیے اس ظلم کا شکار کوئی حیوان ہی کیوں نہ ہو۔اس لیے ہمیشہ رب سے دعا کریں کہ ہماری ذات سے کسی چیونٹی کو بھی تکلیف نہ پہنچے انسان تو بہت عظیم چیز ہے۔۔ جزاک اللہ
No comments:
Post a Comment