Obsessive Compulsive Disorder
یا وسواسی اجباری اضطراب جسے عام طور پر ocd ایک ایسی ذہنی بیماری ہے جس میں انسان کے ذہن پرغیر ضروری خیالات ،سوچیں،احساسات اس قدر حاوی ہو جاتے ہیں کہ وہ ان کے ماتحت مختلف افعال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اس بیماری میں سوچنے کا انداز تبدیل ہو جاتا ہے اور اس بیماری میں مرد اور عورت دونوں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ یہ بیماری زیادہ تر بچپن اور نوجوانی میں نمودار ہوتی ہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جو کہ انسان کی نارمل زندگی کو متاثر کر تی ہے۔ وہ افراد جو اس میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں دو طرح کی علامات واضح ہوتی ہیں۔ ایک علامت تو یہ ہوتی ہے کہ ان کے ذہن میں مسلسل ایک ہی قسم کے خیالات،اور سوچیں بار بار دوہرائی جا تی ہیں جو کہ خوف اور دباو کی وجہ بنتا ہے۔مثال کے طور پراس میں مبتلا فردجب کام پر جانے کی کوشش کرتا ہے تو خیالات کام میں اس طرح مداخلت کرتے ہیں کہ فرد کی توجہ کام پر ختم ہوجاتی ہے۔عام طور پر افراد کو جو خیالات تنگ کرتے ہیں وہ ا س پر قابو پا لیتے ہیں لیکن اس بیماری میں مبتلا فردان خیالات پر قابو پانے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
عام طور پر جو خیالات انسان کو بار بار تنگ کرتے ہیں وہ مختلف اقسام کے ہیں مثال کے طور پر گندگی اور جراثیم کا خوف ،کچھ بھول جانے کا خوف جیسا کہ چولہا بند نہ کرنا،اپنے آپ کو یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے کا خوف اور چیزوں کی بے ترتیبی کا خوف شامل ہیں بعض اوقات اس عارضہ میں مبتلا فرد شدید مذہبی اوراخلاقی عقائد،اوہام ،غیرضروری جارحانہ اورجنسی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس عارضہ کی دوسری علامت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب فرد اپنے خیالات سے مغلوب ہو کر مختلف افعال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔مثال کے طور پر جراثیم کے خوف کے خیال سے مجبور ہو کربار بار ہاتھ دھونا،فرد کا ذہن میں الفاظ دوہرانا ،اور بار بار میز بجانا،خاص انداز میں چیزوں کو ترتیب دینا،بار بار درواز ے کا تالا چیک کرنا،چولہے کا ناب چیک کرنااور سوئچ بند کرنا شامل ہے۔
اس عارضہ کے شکاراکثر افراد جانتے ہیں کہ ان کے خیالات اور افعال غیر ضروری اور غیر حقیقی ہیں لیکن وہ ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ عارضہ شدت اختیار کر جاتاہے اور مریض کئی کئی گھنٹے بے مقصد کاموں میں گزار دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا کاروبار اور تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔اس عارضہ کا تعلق دماغ کے ان حصوں سے ہے جو کہ معلومات کو خیالات اور افعال میں تبدیل کرتے ہیں۔ہمارا دماغ ایک سپر کمپیوٹرکی طرح کام کرتا ہے ۔ یہ فرد کے تجربات کے نتیجے میں نئی معلومات حاصل کرتا ہے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔دماغ کے مختلف حصوں کا آپس میں رابطہ ہوتا ہے اور دماغ کے مختلف حصے مختلف معلومات کو ترتیب دیتے ہیں۔بعض اوقات دماغ میں موجود معلومات کے سسٹم کے مختلف حصوں کا آپس میں تعلق ٹوٹ جاتا ہے تو معلومات صحیح موصول نہیں ہوتی اور دماغ مختلف غلطیاں کرنا شروع کر دیتا ہے اور انسان اپنے خیالات اور افعال سے مغلوب ہو جاتا ہے۔اس عارضہ میں مبتلا ہو نے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں اگر خاندان میں کوئی اس عارضہ کا شکار ہے تو بہت چانس ہوتا ہے کہ بچوں میں یہ عارضہ منتقل ہو جائے۔اگر فرد کو کوئی دوسرا نفسیاتی مرض ہو جیسا کہ پریشانی اورڈیپریشن تب بھی اس عارضہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔بعض اوقات انسان کی کچھ عادات جیسے کہ ہر چیز میں کاملیت ،ضرورت سے زیادہ احساس ذمہ داری اور اخلاقیات بھی اس عارضہ میں مبتلا کر سکتی ہیں۔بچپن میں اگر فرد سڑپ کوسسstreptococcus))نامی بیکڑیا کے انفیکشن میں مبتلا رہا ہو (جو کہ گلے کومتاثر کرتا ہے )تو بھی اس عارضہ میں مبتلا ہو سکتا ہے۔بعض اوقات کوئی جسمانی بیماری یا دماغ پر چوٹ کی وجہ سے بھی اس عارضہ کی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں۔
اس عارضہ کے علاج کے لیے مریض کی ضرورت اور مرض کی علامات کو مدنظر رکھتے ہوے ادویات اور ساہیکو تھراپی تجویز کی جاتی ہے۔ان دونوں کی مدد سے مرض کی شدت کو کم کیا جاتا ہے۔ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو کہ دماغ کے مواصلاتی نظام کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نفسیاتی طریقہ علاج میں اس مرض کی شدت کم کرنے میںcognitive behavior therapyکا کردار بہت اہم ہے۔CBTان تمام ناموافق جذبات،خیالات،سوچیں،عقائد اور رویوں کو پہچانتی ہے اور ان کو تبدیل کرتی ہے۔مریض جن جگہوں پر جانے سے گھبراتا ہےCBTاس کو مدد فراہم کرتی ہے کہ اپنا رویہ تبدیل کریں اور مریض کو مددملتی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور افعال کو کنٹرول کر سکے
No comments:
Post a Comment