Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Wednesday, 30 January 2019

تحریر۔ فاخرہ خان



یہ ویڈیو دیکھی تو ایک سبق ملا ، سوچا آپ سب سے بھی شیئر کروں۔
یہ ایک بندر ہے، بندر یعنی کہ جانور ۔۔۔ جانور مطلب وہ مخلوق جو شعور نہیں رکھتی، یا جس کی عقل نہ ہو۔ پھر عقل کے بغیر کس طرح اس نے یہ توازن برقرار رکھنا سیکھا؟؟ صرف ایک کام سے، جس کا نام ہے مشق، یعنی  (practice )،  اس ویڈیو سے مجھے جو بات سیکھنے کو ملی وہ یہ یے کہ اگر یہ عقل نہ ہونے کے باوجود ان ڈنڈوں پر اپنا توازن برقرار رکھ سکتا ہے تو ہم لوگ بھی اگر تھوڑی سی پریکٹس کریں تو ہم بھی اپنی لائیف کو بہت اچھے سے بیلنس کر سکتے ہیں۔ اور  اپنی زات کی اصلاح کے لیے ہم سب کو اس پریکٹس کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ہماری روز مرہ زندگی کے  معامولات  میں بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بہت سی مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔  
اب سوال ہی ہے کہ لائیف کا بیلنس کیا ہے اور کس طرح کی پریکٹس کی ضرورت ہے۔۔۔اس کا جواب دینے سے پہلے  کچھ اہم  سوالت۔
1۔ کیا ہمارے رویے ہمارے موڈ پر اثر انداز ہوتے ہیں؟
2۔ کیا ہم اپنی خوشی کے لمحوں میں دوسروں کے دکھ نظر انداز کرتے ہیں؟
3۔ کیا ہم اپنے دکھ کے وقت خود کو سب سے  بے بس اور لاچار سمجھتے ہیں؟
4۔ کیا رشتوں کے معاملے میں ہمارا جھکاؤ کسی ایک طرف ہے؟
5۔ کیا ہم کام میں زیادتی کی وجہ سے اپنے زاتی ذندگی نظر انداز کر رہیں ہیں؟
6۔ کیا دوسروں کی  باتیں اور رویے ہمیں پریشان رکھتے ہیں؟

اگر ان  میں سےذیادہ سوالوں کے جواب ہاں میں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ  ہماری لائیف بیلنس نہیں ہے۔  اور ہم بھی بار بار کی مشق سے اپندی ذندگی میں توازن قائم کر سکتے ہیں۔
مثلاً اوپر کے  سات سوالات  لیں، اور ان کے حل کو ایک چارٹ پر لکھ لیں، اور شروع شروع میں اس کو بار بار پڑھیں تاکہ عمل کے وقت آپ کے ذہن میں وہی باتیں رقص کریں۔ پھر دوسرے مرحلے میں ان پر عمل کی کوشش کریں اور یہ ذہن میں رکھیں کہ اگر ایک بندر پریکٹس سے اعلیٰ کارکردگی دکھا سکتا ہے تو آپ بھی   اپنی ذندگی میں بہتری لا سکتے ہیں۔ 
مثال کے لیے ان سوالات کے حل بھی شئیر کر رہی ہوں، اس میں آپ  اپنے حساب سے ردو بدل کر سکتے ہیں، 
1۔ ہم نے موڈ کو اپنے رویوں پر حاوی نہیں ہونے دینا، مثلاََ اگر آپ  اچھے موڈ میں نہیں ہیں تو آپ نے اس چیز کی پریکٹس کرنی ہے اس وقت مسکرانے کی  مشق کریں۔
2۔ جب آپ خوش ہوں تو آپ نے یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ سب کاوقت ایک جیسا نہیں ہوتا، اور جو لوگ پریشانی میں ہیں ان کا خیال رکھنا ہے۔ 
3۔ جب آپ دکھی ہوں تو اپنے اچھے وقت کو یاد کریں۔ اور یہ سوچیں کہ آپ سے ذیادہ دکھ او تکلیف میں بھی کوئی جی رہا ہے۔ آپ پر تو اللّہ کا کرم ہے۔ 
4۔ پوری پلاننگ کے ساتھ ہر رشتے کو اس کا حق دیں۔
5۔  اپنے لیے کوئی ایک وقت مخصوص کر لیں اور  اس کو پوری طرح سے جیئں۔
6۔جب کسی کی باتیں ذہن میں آ کر پریشان کریں تو اس وقت اپنے بچپن کی باتیں سوچنے لگیں، یا خود کو کسی کام میں مصروف کر لیں۔
زندگی کے جس معاملے میں آپ کو بیلنس کی ضرورت ہے  اسطرح  ان باتوں کو سوالات اور ان کے حل کی صورت میں لکھیں اور  پھر ان پر پرکٹس کریں۔

No comments:

Post a Comment