تحریر:ثانیہ ملک
زندگی بھی کتنی عجیب ہوتی ہے۔اس کا کوئی اعتبار ہی نہیں۔۔کبھی دکھ دیتی اور کبھی خوشی۔۔۔۔۔لیکن جو بھی ہو زندگی تو فانی ہے۔۔۔اسے اپنے لیے نہیں دوسروں کے لئے جیو ۔۔۔زندگی کو جی کے جاؤ تا کہ نہ کوئی حسرت رہے نہ التجا۔۔بس یہ یاد رہے "جے رب راضی تاں جگ راضی "۔زندگی گلاب کے پھولوں کی طرح ہے۔جس کی خوشبو سے ہر سو مہک اٹھتا ہے اور جو اسے توڑتا وہ خود اپنا ہاتھ زخمی کر دیتاہے۔زندگی اسے اوروں کے لئے جیو اس پھول کی طرح جو جگ کو مہکا دیتاہے
بقول شاعر:
¤اپنے لیے تو سبھی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
کیا پتہ ہم رہیں یا نہ مگر ہمارے اچھے اعمال ہمیشہ یاد رہیں گے۔۔
No comments:
Post a Comment