میں نے خود کو بڑے لاڈوں میں رکھا ہے
کہ خود ہی میں خود کی پسندیدہ ہوں
میرے ناز بھی میں خود ہی اٹھاتی ہوں
کہ خود ہی خود کو نخرے دکھاتی ہوں
میں نے خود کی خودی کا لحاظ رکھا ہے
کہ خود ہی سے میں خود کلام رہتی ہوں
میرے دکھ ، سکھ میرے بالکل زاتی ہیں
کہ میں خود ہی خود کو رلاتی ہوں
کہ میں خود ہی خود کو ہنساتی ہوں
کہ میں خود ہی خود سے روٹھتی ہوں
کہ میں خود ہی خود کو مناتی ہوں
میں نے خود کو بڑے لاڈوں میں رکھا ہے
(فاخرہ خان)
No comments:
Post a Comment