Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Sunday, 11 August 2019

تحریر :-سیدہ فائقہ حسین گیلانی
ہاں میں بھی کشمیری ہوں۔  فرق صرف اتنا ہے۔ میں دو کشمیر کے سنگم پر آزادی کے سانس لیتے ہوئےاس فضا میں مشرق سے آتی ہوئی ہوا میں شامل وہ  خون کے چںھینٹے دیکھ رہی ہوں جو ستر سال سےآزادی کے نام پر، پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرتے ہوئے خود بھی اس کی پاداش میں ہواؤں کی نظر ہو رہے ہیں۔ کیا آپ نے بھی کھبی محسوس کیا؟ میں کبھی آزادی کے موقع پر سجدہ شکر ادا کرنے کے لیے جھکنا چاہوں تو شہداء کی پکار سنائی دیتی ہے۔ ابھی کچھ خواب باقی ہیں جنہیں تعبیر دینی ہے۔ ہمارا خون کا قرض ادا کرناہے۔ ۔بہت خوبصورت دھرتی پر سکون سے جیتے ہوئے جب دریا کا شور سنتی ہوں۔ اس میں مجھے اپنی کشمیری ماؤوں بہنوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے۔۔ وہ سوال کر رہی ہیں کہ آزادی کے  نغمے گانے والو، ہم کب تک مجسمہ حیرت بنی رہیں گے۔ آخر کب تک؟۔۔۔۔۔۔،؟؟؟؟صرف ایک کلو میٹر کی دوری پرمیں جب آزاد فضاؤں میں گھومتی ہوں تو چاروں جانب سے پتوں کی سرسراہٹ میں مجھے یہ آواز سنائی دیتی ہے۔ ظلم کی چکی میں ہم پس رہے ہیں آخر تمہیں کشمیر کیوں نہیں دکھائی دیتا۔؟؟درختوں کی تازگی صاف بیان کرتی ہے کہ آبیاری دریائے جہلم سے نہیں کشمیریوں کے خون ملے پانی سے کی گئ ہے۔۔۔۔فرق صرف اتنا ہے میں یہ سب محسوس کرتی ہوں ۔وہ یہ سب قربان کر رہے ہیں۔۔ہاں میں بھی کشمیری ہوں۔۔۔ 

No comments:

Post a Comment