Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Wednesday, 7 August 2019


وہ بھی کوئی زخم ہے جو نشان نہ چھوڑے، زخم تو وہ ہوتا ہے جس کا نشان نہ جائے۔۔۔
 وہ بھی کوئی  درد ہے جو  آنسو نہ نکالے، ارے درد تو وہ ہوتا ہے جس کا خیال بھی رلا دے۔۔۔
 وہ بھی کوئی خوشی ہے جس سے تسکین نہ ہو، خوشی تو وہ ہوتی ہے جو روح کو گرما دے۔۔۔
 وہ بھی کوئی چاہت ہے جس کے لیے کوشش نہ ہو، چاہت تو وہ ہے جو حاصل نہ ہونے تک تڑپائے رکھے۔۔۔

میرا کشمیر جل رہا ہے۔۔۔
لاشوں کہ دکان کھلی ہے۔۔۔
وہاں خون کا میلہ لگا ہے۔۔۔
جنازوں کی نیلامی ہے۔۔۔

اے وقت کے حکمرانوں۔۔۔
معصوم جانوں کے درد کو پہچانوں۔۔۔
آج جو تم آذاد ہو۔۔۔
کسی نے تھالی میں رکھ کر دی تھی؟
غلامی کے وقت کو یاد کرو۔۔۔
کتنی قربانیاں دی تھی۔۔۔
کتنی تکلیفیں سہی تھی۔۔۔
کتنی گودیں اجڑی تھی۔۔۔
کتنی عزتیں لٹی تھی۔۔۔
یوں ہی تو نہیں ملی تھی آذادی۔۔۔

کشمیر کے ہر زخم کو اپنا سمجھو۔۔۔
ان کے ہر درد کو اپنا سمجھ۔۔۔
ان کی چاہت ہے آذادی۔۔۔
ان کی خوشی ہے آزادی۔۔۔

ہم نے لڑنا بھی ہے۔۔۔
ہم نے مرنا بھی ہے۔۔۔
آذادی کی خاطر۔۔۔
آذادی کی خاطر۔۔۔
لے کر رہیں گے آذادی۔۔۔

(فاخرہ خان)






No comments:

Post a Comment