تحریر! سیدہ فضہ حسین گیلانی۔
ہاں تو اسکو عید کہتے ہیں! ارے جہاں پاکستان کے گہن گانے والے۔ پاکستان کا پرچم لہرانے والے، نعرہ تکبیر کی صدائیں بلندکرنے والے، کشمیر بنےگا پاکستان یعنی اپنی جنت پاکستان کو سونپے کے خواب دیکھنے والے اس جہاں فانی میں صرف اس لیے اذیت بھری زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کشمیر بنےگا پاکستان۔ تو بتائیے! آج جب کشمیر قربان گاہ بن چکا ہے تو پاکستانی کیسے کشمیر سے محبت ثابت کر سکتا ہے۔ جب پاکستان کا پرچم بلند کرنے والوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ جہاں بھارتی مظالم کا خوف ہر وقت کشمیریوں کے سر پر منڈلاتا ہے۔ جہاں کشمیر کا ہر باسی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہوئی اذیت سے گزر رہا ہے، جہاں عید کے روز کشمیر میں کفن خریدے جا رہے ہیں۔ جہاں عید کے روز عید کی نماز پہ لاشوں کے ڈھیر لگا کر نمازِجنازہ ادا ہو رہی ہے، تو وہاں ہر ایک پاکستانی کو کشمیر سے وفاداری کا ثبوت دینا چاہئے، کیونکہ تاریخ بتاتی ہے اور ہمارا آج ثابت کر سکتا ہے کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے" ہاں اگر ایسا ہی ہے ،تو آئییے نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ،خود کو کلمہ گو کہلوانے والےثابت کریں کہ یہ بازی اگر خون کی بازی ہے تو تب بھی ہم غزوہ ہند پہ ایمان رکھتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment