بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تحریر:- بشری ذوالفقار
8 جولائی ایک ایسا دن جب انسانیت کا درد رکھنے والا ہر انسان چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں تھا کسی بھی مذہب ،رنگ و نسل کا تھا اشک بار ہو گیا کیونکہ اس دن انسانیت سے سچی اور بے لوث محبت ، اور بے لوث خدمت کرنے والے عظیم شخصیت عبد الستار ایدھی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ عبد الستار ایدھی نے اپنی ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں صرف کر دی ۔ سو نہیں ہزار نہیں بلکہ لاکھوں غریبوں،مسکینوں اور یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھا ، رہنے کو گھر ، پہننے کو کپڑا، پیٹ بھرنے کو کھانا دیا۔ نہ صرف روٹی ، کپڑا اور چھت بلکہ شعور بیدار کرنے اور ملک کا روشن مستقبل بنانے کے لئے تعلیم بھی دلوائی۔ ہر وہ بچہ جسے رات کے اندھیرے میں والدین ہسپتال کے باہر چھوڑ جاتے، کچرے میں پھینک جاتے ، معذور ہونے کی وجہ سے خود ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کر جاتے یا پھر رات کے اندھیرے میں ایدھی ہوم کے باہر جھولے میں ڈال جاتے ۔ بغیر کسی امتیاز کے سب کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا ۔ آخر کار وہ عظیم شخصیت شدید علالت کے بعد لاکھوں انسانوں کو روتا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپ کو انیس توپوں کی سلامی دی گئی اور فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔ عبدالستار ایدھی کو رہتی دنیا تک تاریخ میں سنہرے حروف سے یاد کیا جائے گا۔
" ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا"
اللّٰہ پاک کروٹ کروٹ عبدالستار ایدھی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے آمین۔
No comments:
Post a Comment