!کوئی تو رشتہ پاک رہنے دو
وہ اندھیرے کمرے میں گم سم بیٹھی تھی، آج پھر انسانیت کا ایک گھنونا روپ دیکھا تھا۔ چاہ کر بھی وہ اس واقعے کو بھلا نہیں پا رہی تھی۔
زینب کیا ہوا ہے میں دیکھ رہی ہوں تم جب سے سکول سے آئی ہو اکیلی بیٹھی ہو نہ کھانا کھایا ہے نہ کمرے سے باہر آئی ہو، مسئلہ کیا ہے تمھارے ساتھ ؟؟؟؟؟
ماں کے جھڑک کر پوچھنے سے وہ مزید پریشان ہو گئی۔ اس کی تو کوئی دوست بھی نہیں تھی جسے وہ اپنے دل کا حال بتا سکتی۔
،ڈرتی تھی کہ ماں کو بتایا تو سکول سے نکلوا دیں گی شادی کروا دیں گی۔
صبح اٹھی تو بخار سے تپ رہی تھی، سکول سے چھٹی کی، طبیعت نہ سنبھلی تو دو دن مزید چھٹی کی، مرتا کیا نہ کرتا والی کیفیت میں جب سکول گئی تو استاد صاحب یوں اسے دیکھ رہے تھے کوئی بھیڑیا معصوم میمنے کو دیکھ رہا ہو۔
جی زینب کھڑی ہو جائیں کہاں تھی آپ اتنے دن ؟
وہ میں__ میں__ الفاظ گلے میں پھنسے تھے۔
آپ مجھے کلاس روم کے باہر سٹاف روم میں ملیں، اس کے سر پر قیامت نازل کر کے استاد صاحب پڑھانے میں مصروف ہو گئے۔
چھٹی کی گھنٹی بجی اور سب بچے کلاس سے چلے گئے، زینب کسی اور ہی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی کہ چپڑاسی ،
،نے آ کر اس کے کانوں میں صور پھونکا
/____سر آپ کو بلا رہے ہیں
کانپتے قدموں کے ساتھ زینب سٹاف روم کے باہر پہنچی پر ____اب وہ کچھ اور ٹھان چکی تھی
ہاں یہی صحیح ہے! اس نے سیڑھیوں کی جانب دوڑ لگائی اور چھت سے کود کر اس بار اپنی عزت کو تار تار ہونے سے !بچا لیا

No comments:
Post a Comment